English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جونیر ڈاکٹر کے قتل نے مغربی بنگال کو دلدل میں دھکیل دیا

بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں ایک جونیر ڈاکٹر سے زیادتی اور قتل نے معاملات کو اس قدر بگاڑ دیا ہے کہ اب پوری ریاست شدید سیاسی عدم استحکام کی دلدل میں دھنستی دکھائی دے رہی ہے۔

مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ ممتا بینرجی نے کئی مواقع پر کہا ہے کہ جس پولیس اہلکار پر جونیر ڈاکٹر سے زیادتی اور قتل کا الزام ہے جرم ثابت ہونے پر اُسے قرار واقعی سزا دی جائے گی اور ضروری ہوا تو اُسے پھانسی دی جائے گی۔

اپوزیشن اپنا کھیل پورے جوش و خروش سے کھیل رہی ہے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی حکومت ہے جبکہ مرکز بھارتیہ جنتا پارٹی برسرِ اقتدار ہے۔ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور کارکن صورتِ حال سے فائدہ اٹھاکر ترنمول کانگریس کی حکومت کو بالعموم اور وزیرِاعلیٰ ممتا بینرجی کو بالخصوص مطعون کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز کولکتہ کے آر جے کالج پر، جہاں جونیر ڈاکٹر کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، مشتعل ہجوم نے دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی اور پولیس اہلکاروں پر حملے کیے۔ پولیس نے اس حوالے سے وڈیوز تیار کی ہیں جو عدالت میں پیش کی جائیں گی۔ وڈیوز کی بنیاد پر اب تک 19 غنڈوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ممتا بینرجی نے معاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے کل (ہفتے کو) کو ریاست کے صدر مقام کولکتہ میں ایک بڑی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ اس ریلی کی قیادت کرتے ہوئے خطاب کے دوران ریاست بھر کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس سے کہیں گی کہ احتجاج کے نام پر اپنے جذبات کو غنڈوں کے حوالے نہ کریں۔

کولکتہ کے آرجے کالج کے اس واقعے کو بنیاد بناکر کئی ریاستوں میں احتجاج کا بازار گرم کیا گیا ہے۔ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ خواتین کی سلامتی ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے کا خواتین کو درپیش عمومی مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ واقعہ کالج کی چار دیواری کے اندر ہوا ہے۔

آسام کے سلچر میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے جب کالج کی زیرِتربیت ڈاکٹرز اور نرسز کو مشورہ دیا کہ رات کے وقت باہر نکلنے سے گریز کریں تو ہنگامہ برپا ہوگیا۔ ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے کہ خواتین کو رات کے وقت گھر سے نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہی کیوں گیا۔ کئی شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں کہا گیا کہ رات کو نکلنا خواتین کا حق ہے، ریاستی حکومتوں کو اُن کا تحفظ یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے