ڈھاکا: مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش میں تبدیل کرنے والی شورش کے قائد شیخ مجیب الرحمٰن کی اڑتالیسویں برسی کے موقع پر ڈھاکا میں اُن کی رہائش گاہ 32، دھان منڈی میں اس سال عوامی لیگ کے کارکنوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے روک دیا گیا اور اس کے بجائے طلبہ تحریک کی کامیابی کا جشن منانے والوں نے وہاں لُنگی ڈانس کیا۔
بہت سے نوجوان لُنگی یعنی دھوتی پہن کر وہاں پہنچے اور دھمال ڈالی۔ اس موقع پر جو لوگ شیخ مجیب الرحمٰن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے وہاں پہنچے تھے اُنہیں ڈرایا دھمکایا گیا اور بعض کو تو مارنے کی کوشش بھی کی گئی۔ اس موقع پر پولیس دے اِکا دُکا اہلکار دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ جولائی کے دوران چلائی جانے والی بھرپور طلبہ تحریک کے نتیجے میں بنگلا دیش میں سب کچھ بدل چکا ہے۔ 5 اگست کو وزیراعظم کے منصب سے مستعفی ہوکر شیخ حسینہ واجد بھارت فرار ہوگئی تھیں اور اب تک وہیں مقیم ہیں۔
شیخ حسینہ واجد عوامی لیگ کی سربراہ ہیں۔ اس پارٹی نے مسلسل پندرہ سال بنگلا دیش پر حکومت کی ہے مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں غیر معمولی اکثریت کی حامل جماعت کے کارکن اور قائدین چھپتے پھر رہے ہیں۔
شیخ حسینہ واجد کے مستعفی ہونے کے بعد سے عوامی لیگ کے 30 سے زائد رہنماؤں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ بہت سے قائدین یا تو بنگلا دیش کے دور افتادہ علاقوں می روپوش ہیں یا پھر بھارت پہنچ گئے ہیں۔
ڈھاکا اور چند دوسرے شہروں میں ابھی تک عوامی لیگ کے کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے حالات انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ بھنک پڑتے ہی گھیر کر اُنہیں زد و کوب کیا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے پندرہ سالہ اقتدار کے دوران کُھل کر بدمعاشی کی اُنہیں چُن چُن کر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس وقت پولیس بھی کونوں کُھدروں میں دُبکی ہوئی ہے۔ فوج پہلے ہی پیچھے ہٹ چکی ہے۔
ڈھاکا میں شیخ مجیب الرحمٰن اور اُن کے اہلِ خانہ کی یاد میں قائم عجائب گھر کو بھی تباہ کیا جاچکا ہے۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے مجسموں کو بھی گرایا جاچکا ہے۔ بنگلا دیش میں اس وقت مجموعی فضا یہ ہے کہ جو شخص ملک بنانے کا دعویدار تھا اور بابائے قوم کہلاتا تھا اُسے کوئی خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا۔
ایک اور عبرت ناک بات یہ ہوئی ہے کہ کل تک جو نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل جعلی مقدمات چلاکر جماعتِ اسلامی بنگلا دیش کے رہنماؤں کو پھانسی کے تختے پر لٹکوایا کرتا تھا وہی ٹربیونل اب معزول وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف قتلِ عام کے مقدمات کی سماعت کر رہا ہے۔ یہ مقدمات بنگلا دیش کی عبوری انتظامیہ نے دائر کیے ہیں۔ شیخ حسینہ اور اُن کے ساتھیوں پر 15 جولائی سے 5 اگست کے دوران طلبہ تحریک کے قائدین اور کارکنوں کے قتلِ عام کا حکم دینے کا الزام ہے۔

