امریکا کے سابق صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹ حریف کملا ہیرس پر ذاتی حملہ میرا استحقاق ہے۔ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سیاست میں سب چلتا ہے۔ اگر میں کسی کو ذاتی حیثیت میں نشانہ بنا رہا ہوں تو مجھے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔
سابق صدر کا کہنا تھا کہ جب میں کملا ہیرس کو نشانہ بناتا ہوں تو ناقدین کہتے ہیں کہ وہ نائب صدر ہیں مگر یہ بات وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ صدارتی امیدوار بھی تو ہیں۔ اگر وہ میدان میں ہیں اور میرے سامنے ہیں تو میں اُن کے حوالے سے ہر وہ بات کہوں گا جو مجھے سیاسی فائدہ پہنچاسکتی ہو۔
ٹرمپ نے دعوٰی کیا کہ معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت صدر بائیڈن میں بھی کم ہے اور کملا ہیرس بھی اُن سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں۔ وہ بھی معاملات کو اچھی طرح سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اب اپنے انتخابی اجتماعات میں مہنگائی کو اشو بناکر اچھالنا شروع کردیا ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے رونما ہوئی ہے کہ ری پبلکن پارٹی کے پالیسی سازوں نے ہدایت کی ہے کہ انتخابی تقریروں میں صدر بائیڈن یا کملا ہیرس کو ذاتی حیثیت میں نشانہ بنانے کے بجائے عوام کے مسائل کی بات کی جائے، اُنہیں زیادہ سے زیادہ ریلیف پہنچانے کے امکانات کی نشاندہی کی جائے۔
ایک پریس کانفرنس میں سابق صدر نے کہا کہ مجھے کملاہیرس پر بہت غصہ ہے کیونکہ انہوں نے عدلیہ کو اپنے حق میں اور میرے خلاف استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ٹرمپ نے ایک رپورٹر کا یہ خیال مسترد کردیا کہ ری پبلکن پارٹی کو اپنی صدارتی مہم میں نظم و ضبط کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے۔

