کراچی: ملک بھر میں بجلی کی یکساں قیمت کا مطالبہ کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے بجلی کی قیمت کم کرنے کا حل پیش کردیا۔
ایم کیو ایم پی کے رہنما نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےسڑکیں بند کرنے کے بجائے حکومت کو بجلی کے مہنگے بلوں کے مسئلے کو حل کرنے تجویز دے دی ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی موجود ہے کیونکہ یہ 45,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا، ملک کی ٹرانسمیشن لائنوں کی صلاحیت محض 22-25000 میگاواٹ ہیں ۔
لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی تجویز کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلے میں 30% مقامی اور 50% عوامی خود مختار پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے کیونکہ یہ آئی پی پیز پہلے ہی اربوں روپے کما چکے ہیں ۔
سیاستدان نے بھی مشورہ دیا کہ حکومت کو غیر ملکی آئی پی پیز کے ساتھ بھی بیٹھنا چاہیے اور ان سے موجودہ صورتحال پر بات کرنی چاہیے۔
انہوں نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور خطے میں مزید کمپنیوں کو لائسنس دینے کی تجویز پیش کی۔
مزید برآں، ایم کیو ایم-پی رہنما نے پاکستان مسلم لیگ نواز کےسربراہ نواز شریف پر صرف پنجاب کے لیے بجلی کی قیمت میں ریلیف کا اعلان کرنے پر تنقید کی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت نے 500 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے لوگوں کے لئے بجلی کے نرخوں میں 14 روپے فی یونٹ کمی کرکے ایک ریلیف پیکیج تیار کیا ہے۔ یہ ریلیف اگست اور ستمبر کے بلوں میں دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے یوٹیلیٹی بلوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنے ترقیاتی فنڈ میں کمی کی ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے ایم کیو ایم ۔ پاکستان کے رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو صرف پنجاب کی بجائےپورے ملک کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا۔
امید ہے کہ وزیراعظم ملک کے تمام حصوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کا اعلان کریں گے، ایم کیو ایم پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں یوٹیلیٹی کی قیمت میں 20 روپے فی یونٹ کمی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں خصوصی طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان نے دیگر علاقوں میں مایوسی کا احساس پیدا کر دیا ہے۔

