اسلام آباد: وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ملک میں بدامنی پھیلائی اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس سازش کا حصہ تھے، عمران خان سازش کے سرغنہ اور فیض حمید سہولت کار تھے، جنرل فیض حمید کی گرفتاری کے بعد معاملات آگے بڑھیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی،انہوں نے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کا اغاز کیا، نواز شریف نے جنوبی ایشیا کی پہلی موٹر وے بنائی، ملک میں موٹر ویز کا جال بچھایا، نواز شریف نے درست فرمایا کہ مہنگائی اس دور میں ہوئی، جس دور میں 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ہوا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کاروبار کی آسانی کی بنیاد بھی نواز شریف نے رکھی، اسی کے تحت پاکستان کا پہلا اکانومک ایکٹ ریفارمز آیا، جس نے کاروباری شخص کو سہولت دی اور اب ان کی قیادت میں پنجاب حکومت نے بجلی صارفین کو سہولیات فراہم کر کے احسن اقدام اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے 14 اگست کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کی، وفاقی حکومت نے بجلی صارفین کیلئے پچاس ارب روپے مختص کئے ہیں ،وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب میں صارفین کو بجلی کی مد میں بڑا ریلیف دیا، پنجاب حکومت عوام کو ریلیف دینے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، حالات مزید بہتر ہوں گے، ان حالات میں بہتری لانے کے لیے ریلیف لانے کے لیے میاں نواز شریف کی لیڈر شپ میں اٹھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 200 یونٹ والے صارفین کو وزیراعظم پہلے ہی 50 ارب روپے کی سبسڈی دے چکے ہیں ،پنجاب میں بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف کا بڑا پیکج دیا گیا ہے، پنجاب حکومت کے اقدام سے صارفین کو گرمی کے مہینوں میں سہولت ہو گی اور آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہو گی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ 2018 سے پہلے کے دور میں 4 فیصد مہنگائی تھی اور چھ فیصد گروتھ تھی، تو پھر یہ مہنگائی کس دور میں ہوئی؟ ملک میں دہشت گردوں کو واپس کون لایا تھا؟ عمران خان کی قیادت میں انتشار پھیلایا گیا جس کا یہ سب حصہ تھے، شواہد سامنے آرہے ہیں کہ عمران خان کا رابطہ بحال تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج میں خود احتسابی کا اپنا میکنزم ہے، بانی پی ٹی آئی نے ملک میں تقسیم، نفرت اور انتشار کی سیاست کی، انہوں نے ملک میں بدامنی پھیلانے ، ملک کی سالمیت کے خلاف انتشار پھیلانے میں سرغنہ عمران خان تھا اور اس کی مدد جنرل فیض تھا۔

