English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ملک میں بارش سے تباہی ،مزید 12 اموات ،بلوچستان اور بالائی سندھ میں صورتحال ابتر،بارش کا نیا سسٹم داخل

القمر

لاہور ،کراچی، کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر/ نمائندہ جسارت /صباح نیوز)پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں شدید بارشوں سے 12افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے‘بلوچستان میں کئی مقامات پر سڑکیں سیلاب میں بہہ گئیں‘ زمینی رابطے منقطع‘دریاؤں کے کناروں پر آباد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت ‘بالائی سندھ میں بارش سے بڑے پیمانے پرتباہی‘ نشیبی علاقے زیرآب‘لوگوں کی بڑے پیمانے پرنقل مکانی‘ سکھر میں 263ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی‘سندھ میں انتظامیہ غائب‘ بجلی کانظام بھی درہم برہم ہوگیا‘ بارش کا نیاسسٹم بلوچستان سے ملک میں داخل 24اگست تک ملک میں بارش برسائے گا‘ این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا۔ وزیرداخلہ محسن نقوی کا بارش میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس‘ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے سکھر اور لاڑکانہ میں بارش سے نقصانات پر سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے پانی کی فوری نکاسی کا حکم دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے مختلف علاقے مون سون سیزن کی شدید لپیٹ میں ہیں، جہاں مختلف اضلاع میں ہونے والی بارشوں نے تباہی مچادی جبکہ مختلف حادثات میں 12افراد جاں بحق اور12زخمی ہوگئے۔ جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں دو روز سے جاری برسات کے دوران مختلف حادثات میں 5افراد جاں بحق ہوگئے اور 10افراد زخمی ہوگئے، رحیم یار خان میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 108 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔راجن پور کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں تین روز سے شدید بارشوں کے باعث گھروں تک میں پانی داخل ہوگیا جبکہ بجلی کا نظام تیسرے روز بھی معطل ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مزید بارشوں کا امکان ہے اور جنوبی پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان، ملتان اور بہاولپور ڈویژنز میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی نے بتایا کہ راجن پور اور ڈیرہ غازی خان سے اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، سیلابی ریلوں کے راستوں میں مقیم شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے اضلاع کندھ کوٹ، کشمور اور تنگوانی میں گزشتہ دو روز سے جاری بارش کے باعث جل تھل ایک ہوگیا، برسات کے دوران مختلف حادثات میں ایک خاتون جاں بحق اور5 بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی مکانات بھی گرگئے۔گھوٹکی میں تین روز کی مسلسل بارش سے درجنوں دیہات کا آپس میں زمینی رابطہ کٹ گیا، دادو میں کھیر تھر پہاڑی اور جوہی میں تیز بارش سے گاج ندی سمیت مختلف ندیوں میں طغیانی آگئی، دادو کو دیگر شہروں سے ملانے والی رابطہ سڑکیں زیر آب آنے سو سے زیادہ دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔خانپور مہر، میرپور ماتھیلو سمیت آس پاس کے کئی علاقے بھی بارش سے شدید متاثر ہیں، بعض علاقوں سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں، نواب شاہ اور گردو نواح کے مضافاتی علاقوں میں بھی شدید بارش سے کپاس اور چاول کی تیار فصلیں خراب ہوگئی ہیں۔نکاسی آب کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث لوگوں کی مشکلات دہری ہوگئی ہیں، انتظامیہ کی جانب سے فی الحال کوئی ہنگامی اقدام نہیں کیا گیا۔ کمشنر سکھر فیاض عباسی بتایا کہ سندھ میں سب سے زیادہ بارش سکھر میں ہوئی، سکھرمیں24گھنٹوں کے دوران بارش کے4 اسپیل ہوئے جس میں 263 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ پمپ اسٹیشنز پر بجلی نہ ہونے سے پانی کی نکاسی میں دشواری کا سامنا ہے۔ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی بارش اور سیلاب نے نظام زندگی کومفلوج کردیا ہے۔جعفرآباد، قلات، مستونگ، نوشکی، پشین اور چمن میں موسلادھار بارشوں کے بعد سڑکوں پر سیلاب کا منظر ہے، بارش کا پانی گھروں اور ہسپتالوں میں داخل ہوگیا۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے کوئٹہ نوشکی شاہراہ ٹریفک کے لیے بند کردی گئی، مچھ کے نشیبی علاقے بھی زیرآب آگئے، مچھ بولان قومی شاہراہ ٹریفک کیلیے ہرک کازوے کے مقام پر مکمل بند کردی گئی جس کے بعد بلوچستان کا اندرون ملک سے رابطہ منقطع ہوگیا۔قومی شاہراہ زیر آب آنے سے گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں ۔ قلات میں موسلادھار بارش کے باعث کچے مکانات میں دراڑیں پڑ گئیں۔ مستونگ میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواں کے باعث سولر پینلز گرنے سے کئی افراد زخمی ہوئے، دو گھروں کو مکمل جبکہ4 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، چمن کے مختلف علاقوں میں کئی گھر منہدم ہوگئے اور دیواریں گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے ریلوے کے نظام کو درہم برہم کر دیا، کوئٹہ چمن ریلوے پٹری کئی مقامات پر بہہ گئی، نوشکی میں بھی ریلوے ٹریک میں شگاف پڑگیا جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہے ۔ پاک ایران ریلوے رابطہ بھِی منقطع ہوگیا۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا، کراچی کے علاقوں سرجانی، نارتھ کراچی، شادمان، ناگن چورنگی اوراورنگی ٹاؤن میں اتواروقفے وقفے سے ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری رہا۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں رم جھم پھوار کا سلسلہ 24 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔پاک فوج اور فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا (ساؤتھ) کی ضِلع ٹانک میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔فرنٹیئر کور کے جوانوں نے متاثرین علاقہ کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیا۔ مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سیلابی ریلے میں خاتون بہہ گئی جن کی لاش نکال لی گئی ۔مچھ میں موسلادھار بارش سے بولان قومی شاہراہ کے نشیبی علاقے زیر آب آنے سے بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ ہرک کازوے کے مقام پر سیلابی ریلے کے باعث متعدد گاڑیاں پھنس گئیں۔این ایچ اے حکام نے کہا کہ سیلابی ریلے کے باعث بلوچستان کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا، لوگ بولان شاہراہ پر سفرکرنے سے مکمل گریز کریں۔ سیلابی ریلوں کے باعث کوئٹہ تفتان سبی شاہراہیں بند ہوگئیں۔ خضدار میں آسمانی بجلی گرنے سے2افراد جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ لیویز حکام کے مطابق خضدار کے علاقے سارونہ میں آسمانی بجلی گرنے کا واقعہ پیش آیا ۔ لیویز نے بتایا ہے کہ آسمانی بجلی گرنے سے 11 بھیڑ و بکریاں بھی ہلاک ہوئی ہیں،جاں بحق ہونے والے دونوں افراد کی لاشوں کو ہسپتا ل منتقل کر دیا گیا ۔اٹک کے گائوں احمدال میں خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے 4افراد جاں بحق اور ایک خاتون زخمی ہو گئی۔ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ نواحی گائوں احمدال میں پیش آیا، جاں بحق ہونے والوں میں 2 بچے ،خاتون سمیت چار افراد شامل ہیں ۔ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹانک اڈے پر بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ادھرپی پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے وزیراعلی سندھ مرادعلی شاہ سے صوبے میں بارش کے نقصانات پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ہدایت کی گئی ہے کہ سکھر، لاڑکانو اور خیرپور سمیت صوبے بھر میں ہونے والے نقصانات اور امدادی سرگرمیوں پر تفصیلی رپورٹ دی جائے،سکھر اور لاڑکانو ڈویژن ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہوئے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی کہ سکھر اور لاڑکانہ کے نشیبی علاقوں سے بارش کے پانی کے فوری اخراج کو یقینی بنایا جائے،خیرپور ضلع میں ڈیم کے بند میں شگاف کے معاملے پر فوری تحقیقات کرائی جائے اور یقینی بنایا جائے کہ ڈیم کے بند میں شگاف کے بعد نقصان کم سے کم ہو اور متاثرین تک فوری امداد پہنچے۔ مزید برآںوفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے باعث حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیاہے ۔ جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہاراور زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کیلیے دعا کی ہے ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے