
اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ بند کیا گیا نہ ہی اس کی رفتار سست کی گئی، ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اس کی رفتار متاثر ہوئی، قومی معیشت میں بہتری کے لیے ایس آئی ایف سی کی مقرر کردہ ترجیحات کے تناظر میں قومی ڈیجیٹلائزیشن کمیشن قائم کیا جارہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف اس کمیشن کے سربراہ ہوں گے، وزیراعظم نے معاشی مشکلات کے باوجود آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لیے 60 ارب روپے کا بجٹ مقرر کیا گیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت آئی ٹی نے کہا کہ حکومت آئی ٹی کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات کررہی ہے، پاکستان میں اس سال سب سے زیادہ آئی ٹی کی برآمدات ہوئیں‘ ایس آئی ایف سی کے تحت ملک میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے‘ ملکی تاریخ میں پہلی بار آئی ٹی کی سب سے زیادہ برآمدات ہوئی ہیں‘ وزیراعظم کی ترجیحات میں آئی ٹی کا شعبہ سرفہرست ہے۔ وزیر مملکت آئی ٹی کا مزید کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی نے معیشت کی بہتری کے لیے کچھ ترجیحات طے کی ہیں تاکہ ملک میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری آسکے، ان ترجیحات میں آئی ٹی سرفہرست ہے، پاکستان نے پہلی بار میٹا کے اے آئی کے عالمی مقابلے میں حصہ لیا، ڈیجیٹلائزیشن سے اداروں میں شفافیت آئے گی، جب ہم ڈیجیٹل اکانومی کی بات آتی ہے تو اس میں ایف بی آر کی پے منٹس ہیں، ٹیکس کلیکشن ہے، اس سے عوام کو بھی پے منٹس کرنے میں آسانی ہوگی۔ وزیر مملکت آئی ٹی نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں4 ارب روپے سے زاید بجٹ صرف بچے اور بچیوں کی آئی ٹی ٹریننگ اور ان کے روزگار کے لیے حکومت پاکستان نے رکھا ہے، 3 لاکھ سے زاید بچوں کو ٹریننگ چین کی کمپنی ہواوے دے گی، گوگل، مائیکروسافٹ، میٹا سب سے بات چیت چل رہی ہے، ان کے ذریعے بچے اور بچیوں کو مختلف سرٹیفکیٹ دلوائیں گے، ان کو ہنر دیں گے اور ان کے روزگار کو محفوظ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2 آئی ٹی پارکس اسلام آباد اور کراچی میں بنانے جا رہے ہیں۔
