بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے کہا ہے کہ اُن کا ملک میانمار سے نقلِ مکانی کرکے آنے والے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرتا رہے گا۔ ساتھ ہی ساتھ بنگلا دیش میں گارمنٹس کے سیکٹر کو مکمل بحالی سے ہم کنار کرنے کی بھرپور کوششیں بھی جاری رہیں گی۔
اتوار کو اپنے پہلے نمایاں پالیسی خطاب میں ڈاکٹر محمد یونس نے کہا کہ روہنگیا کے مسلمانوں کو شدید ترین نوعیت کی نسل پرستی اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اُنہیں اُن کے اپنے علاقوں میں رہنے نہیں دیا جارہا۔ میانمار (برما) میں ایک طرف فوج ہے اور دوسری طرف اراکان آرمی۔ دونوں مل کر روہنگیا مسلمانوں سے انتہائی نوعیت کی بدسلوکیاں کر رہے ہیں، اُنہیں موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ ایسے میں مسلم دنیا کو اُن کی بھرپور معاونت کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
بیرونی سفارت کاروں اور اقوامِ متحدہ کے نمائندوں کے روبرو عبوری حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے ڈاکٹر محمد یونس نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے حالِ زار سے دنیا واقف ہے مگر پھر بھی کوئی اُن کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا۔ عالمی برادری کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے آبائی علاقوں میں دوبارہ پورے احترام کے ساتھ آباد ہوسکیں۔ اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کو آگے بڑھ کر کوششیں کرنی چاہئیں۔
میانمار کی فوجی حکومت اور نسل پرست عناصر کے ہاتھوں تنگ آئے ہوئے 10 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں نے بنگلا دیش کی سرزمین پر پناہ لے رکھی ہے۔
ڈاکٹر محمد یونس نے کہا کہ عبوری حکومت کی ایک بڑی ترجیح یہ ہے کہ ملک میں گارمنٹس سیکٹر کو جلد از جلد بحال کیا جائے جو ملک کی 55 ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات میں 85 فیصد تک اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر محمد یونس نے بتایا کہ دو ماہ سے بنگلا دیش میں شدید سیاسی عدم استحکام کے باعث معیشت کا پہیہ رُکا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے بڑے بیرونی اداروں نے اپنے آرڈر بھارت اور دیگر ممالک منتقل کردیے ہیں۔ عبوری حکومت گارمنٹس سیکٹر کی جلد از جلد مکمل بحالی کے لیے کوشاں ہے۔ صنعتی عمل کو ہر حال میں جاری رکھا جائے گا۔ بنگلا دیش میں ساڑھے تین ہزار سے زائد گارمنٹ فیکٹریاں ہیں۔

