اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ٹرائل کورٹ کو بدھ تک کیس کا حتمی فیصلہ سنانے سے روک دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل ڈویژن بنچ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے 190 ملین پاؤنڈز کیس بند کرنے کے پرانے فیصلے کے ریکارڈ کی فراہمی کی درخواست کی۔
وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس زیرسماعت ہے، بانی پی ٹی آئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں ہی اسلام آباد ہائیکورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، نیب نے ابتدائی طور پر 8 ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کیا، عدالت نے دیگر 6 کو عدم پیشی پر اشتہاری قرار دے دیا۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹرائل کورٹ میں نیب ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کا ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست دی مگر ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ طلب کرنے کی ہماری درخواست مسترد کر دی، ٹرائل جج نے درخواست مسترد کرنے کی حیران کُن وجوہات لکھیں، ٹرائل جج نے لکھا کہ تفتیشی افسر اس ریکارڈ کا لکھنے والا یا کسٹوڈین نہیں ہے۔
جسٹس حسن اورنگزیب نے سوال کیا کہ کیا برطانیہ کی طرف سے ملنے والی رقم ملک ریاض اور فیملی کو واپس کردی گئی اور یہ رقم کس کی جانب سے پاکستان بھیجی گئی۔
سلمان صفدر نے جواب دیا کہ رقم واپس کردی گئی ہے اور یہ رقم ملک ریاض فیملی کی طرف سے بھیجی گئی، ملک ریاض نے بانی پی ٹی آئی کو القادر ٹرسٹ بنانے کے لیے زمین دی، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا، ’یہ یونیورسٹی کہاں ہے؟۔ یہ یونیورسٹی جہلم کے قریب ہے اور فنکشنل ہے، القادر ٹرسٹ کو یونیورسٹی کی تعمیر اور فرنیچر کے لیے رقم فراہم کی گئی۔
جسٹس حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا القادر ٹرسٹ رجسٹرڈ ہے۔ انہوں نے پھر خود ہی اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ رجسٹرڈ نہیں ہے، میرے پاس کیس چل رہا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ آپ کو پتا چلا تھا تو آپ کو پہلے درخواست دائر کرنی چاہیے تھی، آپ نے آخری لمحے آکر درخواست دائر کی ہے، اسے خارج کیا جانا چاہیے۔
سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیسز میں نیب ریفرنسز کے حتمی فیصلے دینے سے روک رکھا ہے۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو 190 ملین پاؤنڈ کیس کا حتمی فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

