English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پہلے اصلاحات پھر الیکشن: بنگلادیشی عبوری حکومت کے سربراہ کا اعلان،حسینہ واجد کیخلاف ایک اور قتل کا مقدمہ درج

القمر

ڈھاکا(آن لائن +مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ پروفیسر محمد یونس نے اعلان کیا ہے کہ الیکشن کمیشن، عدلیہ، میڈیا اور انتظامیہ میں اہم اصلاحات کے بعد ہی ملک میں الیکشن کرائے جائیں گے۔عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے غیر ملکی سفارت کاروں اور اقوامِ متحدہ کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح طلبہ تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والوں کو انصاف اور ذمے داروں کو کڑی سے کڑی سزا دلوانا ہے،اس حوالے سے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کو خوش آمدید کہیں گے اور شواہد کی فراہمی میں ہر ممکن مدد کریں گے۔عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر نے کہا کہ ہم سیکورٹی فورسزاور میڈیا میں بھی اہم اصلاحات لائیں گے، الیکشن کمیشن، عدلیہ، میڈیا اور سول انتظامیہ میں اصلاحات لائے بغیر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا ممکن نہیںتاہم انہوں نے الیکشن کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم دینے سے گریز کیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ روہنگیا مسلمانوں کی مدد کا سلسلہ جاری رہے گا،عالمی برادری کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے پر توجہ دینی چاہیے،روہنگیا مسلمانوں کو انتہائی نوعیت کے مظالم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اُن پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے، اس وقت کم و بیش 10 لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلا دیش کی سرزمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اُن کے مصائب کا اندازہ تو ہے مگر اس حوالے سے کچھ نہیں کیا جارہا، میانمار کی فوجی حکومت اور اراکان لبریشن آرمی نے روہنگیا مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے،ڈاکٹر محمد یونس کا اس پالیسی خطاب میں یہ بھی کہنا تھا کہ بنگلا دیش کی معیشت تھم سی گئی ہے، گارمنٹس سیکٹر شدید مشکلات کا شکار ہے،2 ماہ سے ہزاروں فیکٹریوں میں کام رُکا ہوا ہے, لازم ہے کہ ملک کی برآمدات میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اس شعبے کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔ حکومت اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے,بنگلا دیش میں ساڑھے 3ہزار سے زائد گارمنٹ فیکٹریاں ہیں, ملک کی سالانہ 55 ارب ڈالر کی برآمدات میں گارمنٹس سیکٹر کا حصہ 85 فیصد سے زیادہ ہے، اس شعبے سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے،حالیہ طلبہ تحریک کے دوران کم و بیش دو ماہ تک گارمنٹ فیکٹریاں بند رہی ہیں، اس کے نتیجے میں بہت سے برآمدی آرڈر بنگلا دیش کے اس اہم شعبے کے ہاتھ سے نکل گئے، منسوخ کیے جانے والے بیشتر برآمدی آرڈر بھارت کو ملے ہیں۔ادھر بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ سمیت عوامی لیگ کے 108 رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف قتل کا ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔مزید برآں ڈھاکا یونیورسٹی میں تلاوت قرآن پر پابندی لگانے والے فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالبشیر کے دفتر میں پہنچ کر قرآن کی تلاوت کی۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ کے دور میں ڈھاکا یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالبشیر نے اپنے طلبہ پر رمضان المبارک میں سرعام قرآن مجید کی تلاوت پر پابندی عاید کی تھی۔ڈھاکا یونیورسٹی میں قرآن پاک کی تلاوت پر پابندی لگانے والے ڈین کو طلبہ نے گھیر کر آفس میں تلاوت کی اور ان کے لیے ہدایت کی دعا کی اور ان سے استعفیٰ لے لیا۔رمضان المبارک کے دوران یونیورسٹی میں محفل قرآن کے پروگرام پر مذکورہ ڈین نے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے شوکاز نوٹس بھی جاری کیے تھے جس پر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی تھی۔طلبہ کے مطابق ڈھاکا یونیورسٹی میں ہندو تہواروں اور رنگین محفلوں کی اجازت تھی جبکہ صرف اسلامی مجالس منعقد کرنے پر پابندی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے