English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یوکرین کے 45 ڈرون تباہ کردیئے ،روسی فوج کا دعویٰ

یوکرینی فوج کے ڈرون حملے میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس نے یوکرین کی جانب سے بھیجے گئے 45ڈرون مارگرانے کا دعویٰ کردیا۔ روس وزارت دفاع نے حملوں سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا کہ کیف انتظامیہ نے ڈرون طیاروں کے ساتھ روس کی زمین پر دہشت گردانہ حملوں کی کوشش کی ۔ بیان میں کہا گیا کہ روس فضائی دفاعی نظاموں نے 45 عدد ڈرون مار گرائے ہیں۔ ان میں سے 11 ماسکو میں، 23 بریانسک، 6 بلگورود، 3 کالوگا اور 2 کرسک میں گرائے گئے ۔ وزارتِ دفاع نے یوکرین کے ساتھ سرحدی علاقوں میں نئے فوجی یونٹ متعین کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ سرحدی علاقوں کے دفاع کے لیے بلگورود، کرسک اور بریانسک میں 3 فوجی یونٹ متعین کیے گئے ہیں۔ وزیر دفاع اینڈرے بیلوسوف نے سرحدی علاقوں میں فوجی سلامتی کے لیے منعقدہ اجلاس میں کہا کہ بلگورود، کرسک اور بریانسک کے منتظمین ، تینوں علاقوں کے یونٹ کمانڈروں اور وزارت دفاع میں 24 گھنٹے براہِ راست رابطہ یقینی بنا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یوکرین کی جانب سے کارروائی ماسکو پر کیا گیا اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ ہے۔ دوسری جانب امریکی روزنامے وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے روسی علاقے پر حملہ کر کے دونوں ممالک کے درمیان خفیہ امن مذاکرات کو تباہ کر دیا۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ روس اور یوکرین کے درمیان قطر کی ثالثی میں بات چیت شروع ہونے جا رہی تھی جس میں دونوں ممالک میں جزوی جنگ بندی ہو سکتی تھی۔ دونوں ممالک دوحہ وفود بھیجنے کے لیے تیار ہوگئے تھے لیکن یوکرین نے روسی علاقے کرسک پر حملہ کر کے مذاکرات کو نقصان پہنچایا اور ماسکو نے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ روسی انکار کے باوجود یوکرین کا وفد دوحہ جانا چاہتا تھا لیکن قطری حکام نے روک دیا۔ یاد رہے کہ آخری بار یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات 2022 ء میں استنبول میں ہوئے تھے،جو ابتدائی پیشرفت کے بعد میں ناکام ہوگئے تھے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے