برطانیہ میں چند برسوں کے دوران دائیں بازو کی انتہا پسندی نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور معاملات دن بہ دن زیادہ سے زیادہ خرابی کی طرف جارہے ہیں۔ برطانوی باشندوں کی کی واضح اکثریت اس بات سے پریشان ہے کہ ملک میں کسی نہ کسی شکل میں انتہا پسندی تیزی سے پنپ رہی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک بھر میں کم و بیش 75 فیصد باشندے اس بات سے خوفزدہ اور پریشان ہیں کہ دائیں بازو کی انتہا پسندی کا گراف تیزی سے بلند ہو رہا ہے۔ قومی پرستانہ جذبات نے اب نسل پرستی اور مذہب پرستی کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جو لوگ برطانوی سرزمین پر اپنا حق مقدم جانتے ہیں وہ اب نسل پرستی کے رجحان کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
برطانیہ میں حال ہی میں مساجد اور مسلمانوں پر حملوں میں اچانک تیزی آئی ہے۔ مسلمانوں سے امتیازی سلوک کی شکایات پہلے بھی عام تھیں مگر اب اس حوالے سے بہت زیادہ خبریں آرہی ہیں۔ کسی نہ کسی واقعے کو بنیاد پر بناکر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا رجحان سا پھیل گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مساجد میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کو بھی شہ دی جارہی ہے۔
دی گارجین کے مطابق ایک حالیہ سروے میں جن لوگوں سے سوالات کیے گئے اُن کی غالب اکثریت نے کہا کہ وہ ملک کے حالات سے تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ ایک مہذب ملک ہونے کے ناطے دنیا کو برطانیہ سے بہت سی توقعات ہیں۔ دنیا بھر کے لوگ یہاں آتے ہیں اور رہنا پسند کرتے ہیں۔ ایسے میں نسل پرستی، امتیازی سلوک اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔
برطانیہ کے طول و ارض میں انتہائی دائیں بازو کے عناصر تارکینِ وطن کے خلاف مہم تیز کر رہے ہیں۔ تارکینِ وطن کی آمد روکنے کے لیے قوانین میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں تاہم دائیں بازو کے انتہا پسند اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملک کو تارکینِ وطن کے بوجھ سے نجات دلائی جائے۔ حکومت اس حوالے سے خصوصی، انقلابی نوعیت کے اقدامات سے گریز کر رہی ہے۔ سابق وزیرِاعظم رشی سُنک اگرچہ تارکینِ وطن کی اولاد ہیں مگر انہوں نے بھی، بظاہر، دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو خوش کرنے کی خاطر ایسی پالیسی اپنائی جس میں تارکینِ وطن کے لیے مشکلات تھیں۔

