بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں کے روایتی نکاح سے متعلق نیا قانون نافذ کر لیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست آسام کی حکومت نے گزشتہ روز کابینہ میں شادی رجسٹریشن بل 2024 منظور کیا تھا جس میں دو اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، اس بل کی منظوری کے ساتھ ہی مسلمانوں کی شادی کے لیے رجسٹریشن کا اختیار قاضی سے چھن لیا جائے گا اور اب قاضی کی جگہ ریاست کی حکومت ان کی شادی رجسٹرڈ کرے گی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کم عمر میں ہی شادی کی رجسٹریشن ہو سکتی ہے، بالغوں کی شادی کی رجسٹریشن کو ناجائز قرار دیا جائے گا۔
اس کی اطلاع وزیراعلیٰ آسام ہمانتا بسوا سرما نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سابقہ (ٹویٹر) پر دی ہے۔
خیال رہے کہ اس بل کا مقصد مقامی باشندوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم کرنا اور مسلمانوں کی آبادی کو روکنا ہے اور یہ سب کچھ مودی سرکار کی حکومت میں ہو رہا ہے۔

