English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طالبان سپریم لیڈر اخوندزادہ نے اخلاقیات کا قانون منظور کر لیا

افغانستان کے طالبان حکام نے اسلامی قوانین کی اپنی سخت تشریح کی بنیاد پر شہریوں کے طرز عمل اور طرز زندگی کے ضوابط کی وضاحت کرنے والے قوانین کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے ۔

اس سال 31 جولائی کو 35 شقوں پر مشتمل قانون کو سرکاری گزٹ میں شائع کیا گیا تھا جس میں ممنوعہ طرز عمل اور طرز زندگی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

’امارات اسلامیہ افغانستان ‘میں، جو طالبان حکومت کا سرکاری نام ہے لوگ پہلے سے بھی ان تمام ممنوعہ رویوں اور زندگی گزارنے کے طریقوں سے واقف ہیں لیکن اس قانون کا نفاز افغان شہریوں پر حکومت کے کنٹرول میں اضافہ کر سکتا ہے ۔

وزارت انصاف نے بدھ کو اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہےکہ طالبان کے سپریم لیڈر، ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اس قانون کی منظوری دےدی ہے۔ ہیبت اللہ لوگوں کے سامنے بہت کم آتے ہیں۔

طالبان کے سپریم لیڈر، ہیبت اللہ فائل فوٹو

طالبان کے سپریم لیڈر، ہیبت اللہ فائل فوٹو

سال 2021 میں جب سے طالبان حکام بر سر اقتدار آئے ہیں اخلاقیات سے متعلق افغانستان کی ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ نامی وزارت کا عملہ افغانستان کی سڑکوں اور گلیوں میں اخلاقیات کے قانون پر عمل درآمد کروارہا ہے ۔

اخلاقیات کے اس قانون میں اب ان امور کے بارے میں عملے کے اختیارات کی وضاحت کر دی گئی ہے جو سماجی ربط ضبط سے لے کر نجی زندگیوں اور لباس تک محیط ہیں ۔

جولائی میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ،جس میں طالبان حکومت پر خوف کی فضا پیدا کرنے کا الزام عائدکیا گیا تھا ، طالبان حکومت نے حال ہی میں کہا ہے کہ افغانستان میں مذہبی قانون پر عمل درآمد میں اخلاقیات کے نفاذ سے متعلق پولیس کا عمل دخل بڑھ جائے گا۔




یہ قانون خاص طورپر یہ تقاضا کرتا ہے کہ "مسلم خواتین، اپنے ارد گرد ان مردوں کی موجودگی میں جو نا محرم ہیں ، اپنے چہرے اور جسم کو ڈھانپنے کی پابند ہیں۔ "

"اگر کسی بالغ عورت کو کسی ضرورت کے تحت اپنے گھر سے لازمی طور پر باہر نکلنا پڑے ، تو وہ اپنے چہرے اور جسم کو ڈھانپنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی پابند ہے کہ اس کی آواز سنی نہ جائے۔”

مردوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھٹنے سے اوپر تک کی شلواریں نہ پہنیں یا اپنی داڑھی کو زیادہ چھوٹا نہ تراشیں۔

گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لیے بھی پابندیاں جاری کی گئی ہیں۔ ان پر گاڑیوں میں میوزک چلانے، منشیات استعمال کرنے ،بے پردہ خواتین کو اور ان خواتین کو بٹھانے پر پابندی ہے جن کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو۔


14 اگست 2024 کو غزنی میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کی تیسری سالگرہ کے موقع پر طالبان فوجی اہلکار ایک فوجی پریڈ کے دوران۔

14 اگست 2024 کو غزنی میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کی تیسری سالگرہ کے موقع پر طالبان فوجی اہلکار ایک فوجی پریڈ کے دوران۔

دوسری شقوں میں، ہم جنس پرستی، نماز قضا کرنے، زنا، جوے، جانوروں کو لڑانے یا اپنے والدین کی نافرمانی پر پابندی کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر یا فون پر جانداروں کی تصاویر بنانے یا دیکھنے پر پابندی شامل ہے۔

قانون میں میڈیا آؤٹ لیٹس سے تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ ایسا کوئی مواد شائع نہ کریں جس سے شرعی قانون اور مذہب کی بےحرمتی ہوتی ہو یا جس میں جانداروں کو دکھایا گیا ہو۔

اس قانون کے تحت عدم تعمیل کی صورت میں، زبانی انتباہ، جرمانوں ، ایک گھنٹے سے تین دن تک گرفتاری، یا اخلاقی پولیس کی جانب سے درخواست کی گئی دوسری سزائیں متعین کی گئی ہیں۔

جرائم کو دہرانے والوں کو عدالتوں میں بھیجا جائے گا۔

اس رپورٹ کا مواد اے ایف پی سے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے