پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ اگر اسلام آباد میں جلسہ ملتوی نہ کرتے تو دوبارہ 9مئی گلے پڑنے کا خدشہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران سیکیورٹی ذرائع کے بیان پر ردرعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ”میں ہوتا کون ہوں، میں ملک کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ ہوں، اسی لیے فیض حمید کے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کررہا ہوں”۔
انہوں نے کہا کہ معلومات دی گئی دینی جماعتیں احتجاج پر ہیں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے، اعظم سواتی اور بیرسٹر گوہر کو بلا کر ملاقات کی اور جلسہ ملتوی کیا۔
عمران خان نے کہا کہ انتشار کا خدشہ تھا اس لئے اسلام آباد میں جلسہ ملتوی کیا،اگر جلسہ کرتے تو دوبارہ 9مئی گلے پڑنے کا خدشہ تھا۔ ابھی تک 9 مئی 2023 کی جوڈیشل انکوائری بھی نہیں کرائی گئی،عدالت کی ساکھ کا سوال ہے ،عدالت ہمیں اجازت دیتی ہے انتظامیہ کینسل کر دیتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی کو واضح طور پر کہہ رہا ہوں 8 ستمبر کو کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہ کرے، اسلام آباد کا جلسہ آخری بار ملتوی کیا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہوں جو اوپن ٹرائل کی بات کررہا ہوں، اگر 9 مئی 2023 میں فیض حمید ملوث تھے تو اوپن ٹرائل کریں، میں نے کسی فارم 47 کی حکومت سے کوئی بات چیت نہیں کی۔
عمران خان کا کہنا تھا حکومت کی ایک طرف چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں توسیع کی گیم ہے، دوسری جانب عدالت میں سنیارٹی کو متاثر کرنے کی پلاننگ کی جارہی ہے، حکومت کا مقصد ہے سپریم کورٹ میں کسی اور کو سامنے لاکر کھڑا کیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا پورے پاکستان میں پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جسے اسلام آبادمیں جلسے کی اجازت نہیں مل رہی، پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی خبر پر ن لیگ میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔

