English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈکٹیٹرز ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کے منتظر ہیں، کملا ہیرس

امریکا کی نائب صدر کملا ہیرس کو شکاگو میں منعقدہ ڈیموکریٹ کنونشن میں باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار مقرر کردیا گیا ہے۔ وہ اس مرحلے تک پہنچنے والی پہلی ایشیائی امریکی اور غیر سفید فام خاتون ہیں۔ اُن سے قبل سابق خاتونِ اول ہلیری کلنٹن بھی امریکی صدارتی امیدوار رہ چکی ہیں۔

ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے چوتھے دن شرکا سے خطاب کرت ہوئے نائب صدر صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے کہا کہ شمالی کوریا کے کِم جونگ اُن جیسے ڈکٹیٹرز کو زیادہ منہ لگانے کی بھی ضرورت نہیں اور اُن سے خائف ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں۔ ایسے لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ چاپلوسی کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد آسانی سے حاصل کرسکیں۔

شکاگو کے یونائٹیڈ سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے کملا ہیرس نے کہا کہ امریکا کو آگے بڑھنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ اہم ترین فیصلے سنجیدگی اور بُرد باری چاہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا عہدِ صدارت ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ انہوں نے امریکی پالیسیوں کو شدید عدمِ توازن سے دوچار کیا۔ امریکا وہاں کھڑا ہے جہاں سیاسی مہم جُوئی کی زیادہ گنجائش نہیں۔ جو کچھ بھی کرنا ہے بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔

کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ تارکینِ وطن کے ایشو پر زیادہ جذباتی ہونے کی گنجائش نہیں کیونکہ تارکینِ وطن امریکی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اُنہوں نے قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہاں، غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد روکنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے پالیسیاں بھی تبدیل کی جاسکتی ہیں، قوانین کو بھی سخت تر بنایا جاسکتا ہے۔

ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار نے کہا کہ امریکا اور یورپ کے تعلقات تبدیل ہو رہے ہیں۔ یورپ اپنی راہیں بدل چکا ہے۔ اس حوالے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکا اب اپنے تمام معاملات میں یورپ کے ساتھ نہیں چل سکتا کیونکہ یورپ کی قیادتیں بھی ایسا نہیں چاہتیں۔ امریکا کو باقی خطوں سے اپنے تعلقات بہتر بنانے پر متوجہ رہنا پڑے گا۔ افریقا میں چین کا عمل دخل بڑھ رہا ہے۔ اُس نے وہاں بڑۓ پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ امریکا نے اب تک شمالی افریقا سمیت پورے افریق کا بہت حد تک نظر انداز کیا ہے۔ اس روش سے ہٹنے کی ضرورت ہے۔

کملا ہیرس نے کہا کہ دنیا بھر کے ڈکٹیٹرز اس بات کو پسند کریں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکا کے صدر منتخب ہوں کیونکہ اُنہیں معلوم ہے کہ ٹرمپ کو ڈکٹیٹر بننے کا شوق ہے۔ اُن کے پہلے عہدِ صدارت میں ہم اِس کا نظارہ کرچکے ہیں۔ دو دن قبل سابق صدر براک اوباما نے بھی ٹرمپ کے عہدِ صدارت کو بھیانک خواب سے تعبیر کیا اور گزشتہ روز سابق صدر بل کلنٹن نے بھی کہا کہ ٹرمپ کو مزید چار سال برداشت کرنے کی گنجائش نہیں۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے اور اِس کے لیے لازم ہے کہ نئی ترجیحات متعین ہوں، سب کچھ نیا ہو۔

کملا ہیرس نے اپنی تقریر کے دوران بچپن کے واقعات سُنائے، غزہ میں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور یوکرین جنگ میں یوکرین کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے