بھارت کے شہر کولکتہ میں جونیر ڈاکٹر کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے سنجے رائے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ حیوانی فطرت کا حامل ہے اور اُسے اپنے اس گھناؤنے فعل پر شرمندگی بھی نہیں ہے۔
دہلی کی سینٹرل فارینزک سائنس لیباریٹری نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنجے رائے کو انتہائی نوعیت کا ذہنی مریض قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اُس کی مجموعی طرزِ فکر و عمل سے جھلکتا ہے کہ اُس کا ذہن نارمل نہیں۔
سینٹرل فارینزک سائنس لیباریٹری کے ماہرین نے بتایا کہ جب اُس سے جونیر ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے پوچھ گچھ کی گئی تو اُس نے اس واردات سے ایک دن پہلے کے معاملات یوں بیان کیے گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ ساری باتیں بالکل نارمل طریقے سے بیان کر رہا تھا۔ اُس کے کسی بھی جملے سے یہ محسوس نہیں کیا جاسکتا تھا کہ اُسے کسی بھی بات کا افسوس ہے۔
سنجے رائے پر کولکتہ کے آر جے کار میڈیکل کالج کی جونیر ڈاکٹر سے زیادتی اور قتل کے الزام میں دو دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔ وہ ابتدائی تفتیش کے دوران اقبالِ جرم بھی کرچکا ہے۔ سنجے رائے اِس وقت سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحویل میں ہے۔
کولکتہ کی جونیر ڈاکٹر کے قتل پر ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا ہے۔ یہ معاملہ اب بھارتی سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے جہاں سی بی آئی نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ ممتا بینرجی کہہ چکی ہیں کہ اگر ضروری ہوا تو سنجے رائے کو پھانسی دینے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

