English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پولینڈ کے بعد نریندر مودی یوکرین پہنچ گئے، امریکا و مغرب ناراض

بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی یوکرین پہنچ گئے ہیں۔ 1991 میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد کسی بھی بھارتی وزیرِاعظم کا یہ یوکرین کا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے کے حوالے سے مغربی دنیا خاصی جُزبُز ہوئی ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم اپنے اس دو روزہ دورے میں یوکرین کے صدر وولودومیر زیلیسنکی سے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے پر بات چیت کریں گے۔ یوکرین اور بھارت کے تعلقات اچھے رہے ہیں تاہم یوکرین جنگ کے باعث بھارت کے لیے یوکرین میں جذبات تبدیل ہوئے ہیں کیونکہ روس کے مقابل بھارت نے یوکرین کی حمایت میں بولنے سے گریز کیا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ یوکرین جنگ کی پاداش میں روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے باوجود بھارت نے اُس سے تجارت تعلقات منقطع نہیں کیے اور بڑے پیمانے پر خام تیل خریدتا رہا ہے۔ اس دوران یورپ نے روس سے خام تیل خریدنے سے گریز کیا ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم نے یوکرین پہنچنے سے پہلے پولینڈ کا دور روزہ دورہ کیا اور اس دورے میں پولش قیادت سے دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے سیرحاصل گفت و شنید کی۔

بھارتی وزیرِاعظم کے مشرقی یورپ کے دوروں کو مغربی میڈیا میں حیرت کے ساتھ دیکھا گیا ہے کیونکہ اس مرحلے پر بھارتی قیادت سے اس نوعیت کے اقدامات کی توقع نہیں تھی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی قیادت نے مغربی دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس کے نزدیک معاشی تعلقات ہی سب کچھ ہیں اور اُسے بلاکس کی لڑائی اور نظریاتی کشمکش سے کوئی غرض نہیں۔

بھارتی وزیرِاعظم نے ایک ماہ قبل روس کا بھی دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے یوکرین جنگ جلد از جلد ختم کرنے پر زور دیا تھا۔ واضح رہے کہ روس سے جنگ میں چند ہفتوں کے دوران یوکرین کی افواج کو غیر معمولی کامیابیاں ملی ہیں۔ کئی روسی علاقوں میں یوکرین کی فوج بڑھی ہے اور کرسک کے علاقے میں بفر زون قائم کرنے کی تیاری بھی کی جارہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے