ٹنڈوآدم (نمائندہ جسارت) 26 اگست 1941 کو مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ کی سربراہی میں 75 افراد نے لاہور میں نفاذ اسلام کی عالمگیر تحریک جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی، آج دنیا بھر میں اس تحریک کی شاخیں قائم ہیں، جماعت اسلامی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ ملک کی واحد دینی جماعت ہے جو حقیقی معنی میں ایک جمہوری اور موروثیت سے پاک جماعت ہے، جماعت اسلامی ہر قسم کی لسانی و فرقہ واریت کے تعصب سے پاک ہے جبکہ دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں خاندانی لمٹیڈ پارٹیاں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی سندھ کے ڈپٹی سیکرٹری مولانا عبد القدوس احمدانی، امیر جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ عبدالغفور انصاری، نائب امیر مشتاق احمد عادل اور مقامی امیر عبدالستار انصاری نے جماعت اسلامی کے 83 ویں یوم تاسیس پر مرکز جماعت اسلامی کوثر مسجد میں کارکنوں کے بڑے عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنے قیام سے لے کر آج تک لبرل ازم، سوشل ازم، سیکولر ازم و سرمایہ دارانہ نظام کے لٹریچر کا مقابلہ لٹریچر سے، دلیل کا مقابلہ دلیل سے، نعروں کا مقابلہ نعروں سے اور سیاست کا مقابلہ اس سیاست سے کیا جو اقامت دین اور شرافت کی سیاست ہے، جماعت اسلامی کے کارکنان نے اس ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان میں ہر شعبہ زندگی پر سید مودودیؒ کی فکر اور جماعت اسلامی کی تحریک کے اثرات نمایاں ہیں جہاں جہاں کمیٹڈ اور اچھی شہرت کے لوگ ہیں، وہ کسی درجہ میں اس تحریک کے تربیت یافتہ اور اثرات کو قبول کرنے والے ہوں گے، سیاسی میدان میں بھی جماعت اسلامی کی بڑی جدوجہد کے گہرے اثرات ہیں، دساتیر میں اسلامی دفعات کا شامل ہونا اور خاص کر قرارداد مقاصد کو دستور میں شامل کرانے میں جماعت اسلامی کا بڑا کردار ہے اور اسی تحریک ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کے خلاف جماعت اسلامی کا کردار نمایاں رہا، شعائر اسلام اور اقتدار اسلام کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بہت مؤثر کردار ادا کیا ہے، جماعت اسلامی کو پارلیمنٹ عددی کامیابی بوجوہ نہ مل پائی، لیکن جتنا موقع ملا جماعت اسلامی کا کردار بہت شاندار، مؤثر اور نمایاں رہا ہے، ہم چند ہیں لیکن قابل فخر ہیں کہ مصداق ہمارے ممبران کی کارکردگی پورے پارلیمنٹ پر بھاری رہی، پاکستان میں جتنی تحریکیں چلیں، اس میں جماعت اسلامی لیڈنگ پوزیشن پر رہی اور جہاں جہاں جماعت اسلامی کو حکومتی سطح پر کام کا موقع ملا، اس کے وزرا، ممبران اسمبلی، چیئرمین، ناظمین نے امانت و دیانت اور اعلیٰ کارکردگی کی مثال پیش کی ہے، تعلیمی و رفاحی اور فلاحی خدمات میں تو جماعت اسلامی کے کردار کا زمانہ معترف ہے اور جماعت کے شعبے برینڈ بن چکے ہیں۔
