
غزہ/ تل ابیب / بیروت / قاہرہ /نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج نے غزہ کے النصیرت پناہ گزین کیمپ کے اسکول العز بن عبدالسلام پر وحشیانہ بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید ہوگئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس علاقے سے فلسطینی پناہ گزینوں کو نکل جانے کا حکم دیا تھا اور پھر رات بھر بم برساتے رہے جس میں متعدد فلسطینیوں کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایک غمزدہ ماں باپ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ جب وہ اپنے بچے کو تلاش کرنے کے لیے نکلے تو اپنے لخت جگر کی لاش کو 2 ٹکڑوں میں پایا۔ اسرائیلی بم نے ہمارے جگر کے ٹکڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ امدادی کاموں کے نگراں نے بتایا کہ تباہ اسکول میں ہر جگہ لاشوں کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے اور درجنوں زخمی درد سے کراہ رہے تھے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا تاہم ان میں سے 5 کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ دریں اثنا اسرائیل نے الشفا اسپتال کے قریب واقع ایک اور اسکول پر بھی بمباری کی جہاں فلسطینیوں نے بڑی تعداد میں پناہ لی ہوئی تھی۔ اس علاقے کو بھی پہلے خالی ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ دونوں اسکولوں پر اسرائیلی بربریت میں شہید ہونے والوں کی تعداد سے متعلق متضاد اطلاعات ہیں تاہم ایک اندازے کے مطابق شہادتوں کی تعداد 50 کے قریب ہوسکتی ہے۔ حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیلی گن بوٹ کو نشانہ بنایا ہے جس میں صیہونی فوج کا اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حزب اللہ کے حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت اسرائیلی بحریہ کے 914 ویں فلیٹ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ سپاہی ڈیوڈ موشے بن شتریت کے نام سے ہوئی ہے۔ ادھر فلاڈلفیا اور رفح راہداری پر مصر میں ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل نے نئی شرائط رکھ دی جسے مصر اور حماس نے مسترد کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ امریکی صدر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجاویز کی پابندی کرے۔وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکا اب بھی قاہرہ میں کوشش کر رہا ہے۔امریکا کی جانب سے بھیجی جانے والی فوجی امداد کی نئی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق فوجی سامان ترسیل کرنے والا 500 واں امریکی طیارہ اسرائیل پہنچا ہے۔ غزہ جنگ بندی مذاکرات کی شرائط پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اپنی ہی مذاکراتی ٹیم سے اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے جنگ بندی مذاکرات کے دوران مصر سے ملحقہ غزہ پٹی کے فلاڈیلفی کا ریڈار کا کنٹرول چھوڑنے کی مخالفت کردی تھی جبکہ مذاکراتی ٹیم مذاکرات کے نتیجے میں کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے اس کے حق میں تھی۔ اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جنگ ابھی نہیں بلکہ مستقبل بعید میں ہوگی۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ان کی فوج نے پیر کو حزب اللہ کی کارروائی کو ناکام بنا دیا اگرچہ حزب اللہ نے صبح کے وقت سیکڑوں ڈرون اور میزائل اسرائیل کی جانب فائر کیے تھے۔دوسری جانب قطر میں ہونے والے غزہ امن مذاکرات اسرائیلی ہٹ دھرمی کے باعث کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے تھے۔ حماس نے پہلے ہی اسرائیل کی بدنیتی کو بے نقاب کرتے ہوئے مذاکرات میں شریک ہونے سے معذرت کرلی تھی۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کی تلاش کی دلچسپ تفصیلات سامنے آگئیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق حماس کے سربراہ کی تلاش کے لیے امریکا اسرائیل جوائنٹ انٹیلی جنس فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور یحییٰ السنوار کی تلاش کے لیے زمین میں سرائیت کرنے والے ریڈارز کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ یحییٰ السنوار جنگ کے آغاز میں الیکٹرونک پیغامات بھیجا کرتے تھے پھر اسے ترک کردیا‘ جنگ کے آغاز میں جوائنٹ ٹیم یحییٰ السنوار کی کالز پکڑنے میں کامیاب بھی ہوئی تھی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کو معلوم ہوا کے یحییٰ السنوار 8 بجے کا عبرانی خبرنامہ سنتے ہیں۔ اخبار کے مطابق بجلی کی قلت کے سبب یحییٰ السنوار نے موبائل فون کا استعمال چھوڑا، جس پر اسرائیل نے غزہ میں ایندھن کی سپلائی دی تاکہ السنوار پھر موبائل استعمال کریں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جنوری میں اسرائیل اس سرنگ تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوگیا جہاں یحییٰ السنوار قیام پذیر تھے تاہم چھاپے سے محض چند لمحوں پہلے یحییٰ السنوار وہاں سے چلے گئے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ سب اتنا جلدی ہوا کہ یحییٰ السنوار 10 لاکھ ڈالر سرنگ میں چھوڑ گئے، بعض اخبارات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کے سرنگ میں پہنچنے پر یحییٰ السنوار تو وہاں موجود نہیں تھے لیکن ان کافی ابھی گرم ہی تھی۔ حماس رہنما اسامہ حمدان کا کہنا تھا کہ جولائی میں منظور کی جانے والی جنگ بندی تجاویز پر قائم ہیں، اسرائیل کی دی گئی نئی شرائط کو مسترد کرتے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق حماس کا وفد قاہرہ میں مصری اور قطری ثالث کاروں سے بات چیت کے بعد دوحا واپس چلا گیا۔
