ڈھاکا:بنگلہ دیش کی نئی عبوری حکومت نے ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت، اس کے طلبہ ونگ اسلامی چھاترو شبر اور “تمام برادر تنظیموں” پر سے پابندی اٹھا لی ہے۔
یہ پابندی موجودہ معزول حکمران شیخ حسینہ کی حکومت کے آخری دنوں میں لگائی گئی تھی۔
“حکومت نے… یکم اگست 2024 کے سابقہ حکم کو منسوخ کر دیا ہے، جس میں بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی پر پابندی لگائی گئی تھی”، آرڈر میں لکھا گیا۔ “یہ فوری طور پر نافذ ہو جائے گا۔”
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش پر2013میں الیکشن لڑنے پر پابندی عاید کی گئی تھی، جب ہائی کورٹ کے ججوں نے اس کے چارٹر کے ذریعے 170 ملین آبادی والے مسلم اکثریتی ملک کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی کا فیصلہ دیا تھا۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے لاکھوں حامی ہیں۔
جماعت کو 2014، 2018 اور اس سال جنوری میں دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا تھا، جب 76 سالہ حسینہ نے قابل بھروسہ اپوزیشن کے بغیر انتخابات میں اپنی پانچویں بار کامیابی حاصل کی تھی۔
اس کے بعد حسینہ کی حکومت نے یکم اگست کو ایک انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت جماعت پر مکمل پابندی لگا دی۔
حکومتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس نے جماعت کے طلبہ ونگ اسلامی چھاترو شبر سمیت دیگر بردار تنظیموں پرپابندی ہٹا دی ہے، کیونکہ “دہشت گردی اور تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی خاص ثبوت نہیں تھا”۔
جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے۔
پابندی کے خاتمے سے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیاسی عمل میں حصہ لے سکے گی اور ملک میں اگلے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے سیاسی مکالمے میں بھی حصہ لے سکے گی۔

