امریکا نے ایک بار پھر دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ہر حال میں، ہر قیمت پر اسرائیل کا دفاع کیا جائے گا۔ یہ بات امریکی ایوانِ صدر کے ترجمان برائے قومی سلامتی جان کربی نے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔
جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکا کو اب بھی یقین ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر بہت جلد دستخط کرلیے جائیں گے۔ چند ایک معاملات پر اختلاف برقرار ہے تاہم یہ اختلاف بھی جلد دور کرلیا جائے گا۔
جان کربی نے اسرائیل کے چینل 12 سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی طرف سے کسی حملے کے امکان کے بارے میں کچھ کہنا بہت مشکل ہے تاہم امریکا اُس کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ امریکا نے خطے میں مطلوب عسکری قوت رکھی ہے تاکہ اسرائیل کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔
جان کربی نے کہا کہ ہم نے ایران پر بارہا واضح کیا ہے اور اب بھی اُس سے کہہ رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہ کرو جس سے خطے میں کشیدگی پھیلے کیونکہ اِس کی کوئی ضرورت نہیں اور دوسرے یہ کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کر ہی دیا تو ہر حال میں اُس کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
جان کربی کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ہے مگر اِتنی نہیں کہ اِسے ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ تصور کیا جائے۔ خطہ کسی اور جنگ کا متحمل بھی نہیں ہوسکتا۔ غزہ میں لڑائی رُکوانا امریکا کی اولین ترجیح ہے۔

