اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ ’سیو غزہ‘ مارچ کے دوران پولیس نے جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس مارچ کا مقصد فلسطینی عوام کی حمایت میں آواز بلند کرنا تھا، تاہم پولیس نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کارروائی کرتے ہوئے ڈی چوک اسلام آباد کے قریب سے 20 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار کارکنانوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان کے احتجاجی حق کی خلاف ورزی ہے اور وہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گرفتاریاں عوامی تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کی گئیں۔ اس واقعے کے بعد ملک کے مختلف حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ایک طرف پولیس کے اقدام کی حمایت کی جا رہی ہے تو دوسری طرف اسے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
