اسلام آباد: ترجمان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) رؤف حسن نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی رہنماوں کا ذاتی حیثیت میں فوج سے رابطہ ہے، اسٹیبلشمنٹ رابطے کے نتیجے میں ہی 22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا، فوج اور پی ٹی آئی میں بلاتاخیر مذاکرات کا آغاز ہونا چاہئے، امید کر سکتے ہیں کہ فوج اور پی ٹی آئی میں ڈیڈلاک مزید نہ رہے، یہ ریاست کے مفاد میں ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ امید ہے پی ٹی آئی اور فوج میں ڈیڈ لاک مزید برقرار نہیں رہے گا اس وقت فوج اور پی ٹی آئی میں بات چیت اشد ضروری ہے، سیاسی استحکام کے لیے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے، عدالتی عمل یا نئے انتخابات سے مینڈیٹ کی تصحیح کی جائے۔
اُنکا کہنا تھا کہ فوج کو سیاست میں نہیں لانا چاہتے لیکن آگے بڑھنے کا راستہ فوج سے بات چیت میں ہی نکلتا ہے، اس وقت طاقت حکومت کے پاس نہیں بلکہ فوج کے پاس ہے اس لیے حکومت نہیں فوج سے ہی بات فائدہ مند ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑی جماعت اور طاقتور ادارے کے درمیان بات چیت ضروری ہے، پی ٹی آئی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کی طاقت فوج کے پاس ہے، فوج سے مذاکرات کے لیے جو کرسکتے تھے وہ کیا ہے۔

