حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) انجمن تاجران ریشم بازار کے صدر محمد آصف میمن کونچ والا، جنرل سیکرٹری ایوب شیخ، چیئرمین عدنان خان دیسوالی و دیگر اراکین نے اپنے بیان میں بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکسز، یونٹ کی قیمتوں میں اضافے اور بلاجواز ہزار روپے کے فکس ٹیکس پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ثابت کردیا کہ وہ ترقی نہیں تباہی چاہتی ہے اور اس کا ہر قدم ملک کو معاشی تباہی کی جانب دھکیل رہا ہے جس کا ثبوت یومیہ درجنوں صنعتوں کی بندش اور سرمایہ داروں کا ملک سے جانا ہے جس کے سبب اہداف کی تکمیل تو دور، حکومت چند فیصد بھی حاصل نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ تاجر کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، حکومت نے اسی تاجر کو معذور بنانے کی ٹھان لی اور کاروبار دن بدن تباہ ہونے پر تاجر ذہنی اذیت سے دوچار ہے۔ آصف میمن کونچ والا کا کہنا تھا کہ ایک جانب تو حکومت حب الوطنی امن کا درس دیتی ہے اور دوسری جانب پوری قوم کو بغاوت پر اُکسا رہی ہے جس کا اُسے اندازہ نہیں کہ یہ کتنا تباہ کُن ہو سکتا ہے؟ اراکین نے کہا کہ پیٹ بھر کر ٹیکس وصول کرکے بھی تاجر و عوام کو ٹیکس چور کی گردان بھرنے والے یاد رکھیں کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں، ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے، حکومت و فیصلہ ساز ملک میں بڑھتی معاشی تباہی اور سول نافرمانی سے بچنے کے لیے زبانی کلامی نہیں، عملی ریلیف فراہم کریں۔
