اسلام آباد: افغانستان سے تعلق رکھنے والے خارجی خودکش بمبار روح اللہ کا بیان منظر عام پر آیا ہے جس میں اس نے اپنی دہشت گردی کی تربیت اور پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق روح اللہ نے بتایا کہ وہ ایک سال سے افغان صوبے دانگام کے گاؤں طورطم کے مدرسہ ترتیل القرآن میں طالب علم تھا، جہاں اسے خودکش بم دھماکوں کی تربیت دی گئی۔
روح اللہ نے مزید بتایا کہ مدرسے میں مولوی صبغت اللہ، فاروق، اور ذاکر جیسے افراد خودکش بم دھماکوں کی تربیت فراہم کرتے تھے۔
روانگی سے دو روز قبل انہیں انجکشن لگا کر بے ہوش کیا جاتا تھا۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد روح اللہ اور اس کے تین ساتھی ضلع ناری کے گاؤں باتش کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں سے افغان بارڈر پار کرکے پاکستان میں داخل ہوئے۔
پاکستان میں داخل ہونے کے بعد سجاد نامی شخص نے روح اللہ اور اس کے ساتھیوں کو مختلف مقامات پر منتقل کیا۔
سجاد نے دو خودکش بمباروں کو علیحدہ کر دیا اور روح اللہ کو ایک مسجد میں رات گزارنے کا حکم دیا۔ اگلی صبح، روح اللہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ سلیمان نامی شخص سے مل کر کنٹونمنٹ میں حملہ کرے۔
تاہم جب روح اللہ ٹرک میں سوار ہوا، تو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اسے گرفتار کر لیا۔ بیان میں روح اللہ نے اس منصوبے کی تمام تفصیلات بیان کیں جس کا مقصد پاکستان میں دہشت گردی پھیلانا تھا۔

