حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی قیادت نہیں چاہتی کہ اسرائیلی یرغمالی رہائی پائیں۔ یرغمالیوں کی ہلاکت کی ذمہ دار بھی اسرائیلی حکومت ہی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے بھی اس حوالے سے اسرائیلی قیادت کی ہٹھ دھرمی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
انڈیا ٹوڈے نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ حال ہی میں ایک سرنگ سے 6 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں۔ یرغمالیوں کے اُمور سے متعلق حماس کے عہدیدار ابو عبیدہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی فوج آگے بڑھے گی تو معاملات مزید الجھ کر یرغمالیوں کی ہلاکت تک پہنچیں گے۔ اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد ایک سرنگ سے صہیونی فوج کو 6 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ملی تھیں۔ اِنہیں صہیونی فوج کے وہاں پہنچنے سے چند گھنٹے قبل ہی ہلاک کیا گیا تھا۔
امریکی قیادت کے لیے معاملات بہت پیچیدہ ہوچکے ہیں۔ غزہ کے معاملے میں اسرائیل کی غیر معمولی حمایت کرنے پر اُسے دنیا بھر سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں بھی معاملات خطرناک شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ اسرائیل سے تعلق رکھنے والے یا اسرائیل کی حمایت پر تُلے ہوئے ملکوں کے تجارتی جہازوں کو یمن کی حوثی ملیشیا پھر نشانہ بناسکتی ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے لیے یہ بات انتہائی پریشان کن ہے کہ اسرائیلی قیادت غزہ کی لڑائی ختم کرنے کے موڈ میں نہیں۔ اس حوالے سے ضرورت سے زیادہ سخت گیر موقف اختیار کرنے کے نتیجے میں معاملات کی پیچیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ غزہ میں جلد از جلد جنگ بندی ہو تاکہ خطے کی صورتِ حال کو کنٹرول کرنے میں زیادہ الجھن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حماس کا موقف اب واضح ہوچکا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج نے پیش قدمی جاری رکھی تو یرغمالیوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اب تک صہیونی قیادت کو اس بات کا یقین تھا کہ وہ چاہے کچھ بھی کرے، حماس کے کارکن اسرائیلی یرغمالیوں کو گزند نہیں پہنچائیں گے۔
اُدھر اسرائیل میں بھی عوام کی طرف سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ حماس سے قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کیا جائے۔ اسرائیل کے طول و عرض میں اس حوالے سے مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ یرغمالیوں کے رشتہ داروں کے علاوہ عام اسرائیلی بھی چاہتے ہیں کہ قیدیوں کے تبالے کا معاہدہ جلد از جلد کرلیا جائے تاکہ غزہ پر حملے روک کر مزید یرغمالیوں کی ہلاکت رکوائی جاسکے۔

