بنگلا دیش میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مزید پانچ مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمات قتل کے احکامات جاری کرنے اور انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کی راہ ہموار کرنے سے متعلق ہیں۔
شیخ حسینہ واجد کے خلاف دائر کیے جانے والے مقدمات کی تعداد اب 89 ہوچکی ہے۔ بنگلا دیش کی عبوری حکومت کی طرف سے گرین سگنل دیے جانے کے بعد اب شیخ حسینہ اور اُن کے 30 سے زائد رفقائے کار کے خلاف قتل، اقدامِ قتل، جنگی اور انسانیت سوز جرائم کے الزامات کے تحت انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے تحت قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہی وہ ٹربیونل ہے جس کے متنازع فیصلوں کے تحت جماعتِ اسلامی بنگلا دیش کے کئی معمر راہ نماؤں کو سزائے موت دی جاچکی ہے۔ اس ٹربیول کی کارروائیوں کو بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس ٹربیونل نے جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے اور ناکافی شواہد کی بنیاد پر سزائیں سُنائیں۔
شیخ حسینہ واجد نے 5 اگست کو وزیرِاعظم کے منصب سے مستعفی ہونے کے بعد بھاگ کر بھارت میں پناہ لی تھی۔ وہ اب تک بھارت ہی میں پناہ گزین ہیں۔ بنگلا دیش کی سابق حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے کئی بار بھارتی قیادت سے کہا ہے کہ وہ شیخ حسینہ واجد کو بنگلا دیش کے حوالے کرے تاکہ اُن کے خلاف مقدمات کی کارروائی قانون کے تقاضوں کے مطابق جاری رکھی جاسکے۔
جب شیخ حسینہ واجد وزیرِاعظم تھیں تب بنگلا دیش بہت حد تک بھارت کا بغل بچہ بن کر رہ گیا تھا۔ بھارت کی طرف شیخ حسینہ واجد کے واضح جھکاؤ کے باعث بنگلا دیش میں بھارت سے نفرت بھی پیدا ہوئی اور عوام نے بارہا مظالبہ کیا کہ بھارت سے ہٹ کر چلنے کی کوشش کی جائے۔ بھارت کے تجارتی مال کے بائیکاٹ کی تحریک بھی کئی بار چلائی گئی اور اس تحریک نے خاصا زور بھی پکڑا۔

