English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پولیو کے خاتم� کیلئے بزنس کمیونٹی کا کردار ا�میت کا حامل �ے،آص� کاکڑ

القمر

کوئٹہ(نمائندہ جسارت)پاکستان انسداد پولیو پروگرام ضلع کو ئٹہ کے کمیونٹی کمیونیکیشن آفیسر(سی سی او)محمد آصف کا کڑنے کہا ہے کہ پولیو کے خاتمہ کیلیے بزنس کمیونٹی کا کردار اہمیت کا حامل ہے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور تاجر تنظیمیں اس بابت ہمارا ساتھ دیں،سال رواں میں بلوچستان میں پولیو کے 12کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 3 بچے موت کی آغوش میںجا چکے ہیں،صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سیوریج لائنوں سے لیے گئے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے،سال رواں میں پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے بچوں میں 90فیصد بچے ایسے تھے جو پولیو ٹیموں کے ریڈار پر ہی نہ تھے یعنی انہیںوالدین کی جا نب سے چھپایا گیا تھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ انسداد پولیو سے متعلق منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس سے قبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے سنیئر نائب صدر حاجی آغا گل خلجی اور نائب صدر سید عبدالاحد آغا ودیگر نے محمد آصف ودیگر کو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان آنے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کوپولیو جیسے موذی مرض سے بچانے کیلیے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچا کے ویکسین پلانا ہوں گے جو کہ قومی فریضہ ہے کیونکہ پولیو وائرس ایک بچے کو ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کو متاثر کر دیتا ہے ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلیے حکومت اور دیگر اداروں کا ہر ممکن ساتھ دیں گی کیونکہ موجودہ حالات میں پاکستانیوں اور خاص کر بلوچستان کے لوگوں پر سفری پابندیوں کے خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں ہم ہر فورم پر پاکستان انسداد پولیو پروگرام کا ساتھ دیں گے۔اس موقع پر انسداد پولیو پروگرام کے ذبیح اللہ ناصر نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امسال پاکستان میں 16پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 12کیسز بلوچستان،3کیسز سندھ اور ایک کیس پنجاب میں رپورٹ ہوا ہے متاثرہ بچوں میں 90فیصد ایسے ہیں جو انسداد پولیو پروگرام کے ریڈار پر تھے ہی نہیں یعنی والدین نے ان کو چھپا رکھا تھا ہمیں افسوس ہے کہ پولیو وائرس سے متاثرہ 3بچے موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے