شمالی کوریا کے حالیہ سیلاب کے ذمہ دار قرار پانے والے 30 اعلیٰ حکام کو ملک کے ڈکٹیٹر کم جونگ اُن کے حکم پر سزائے موت دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس خبر کی اب تک غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کم جونگ اُن نے کہا تھا کہ حالیہ سیلاب کے ذمہ دار افسران کو سخت سزائیں دی جائیں۔ جولائی میں چیگینگ صوبے میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔
جن افسران کو سزائے موت دی جانی ہے اُن پر کرپشن اور فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں غفلت برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ساؤتھ کورین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جولائی میں سیلاب سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے اور چار ہزار سے زائد اموات واقع ہوئی تھیں۔
شمالی کوریا کے حکام نے ٹی وی چوزن کو بتایا کہ گزشتہ ماہ اِنی دنوں میں 20 تا 30 حکام کو سزائے موت دی گئی تھی۔
یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ کن کن افسران کو سزائے موت دی جاچکی ہے تاہم میڈیا رپورٹ میں آیا ہے کہ چیگینگ صوبے میں 2019 سے کمیونسٹ کے سیکریٹری کے منصب پر خدمات انجام دینے والے کینگ بون ہون کو سیلاب کے دوران ہونے والے ایک اجلاس میں کم جونگ اُن نے برطرف کردیا تھا۔
شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر پہلے بھی کرپشن اور دیگر الزامات کے تحت انتہائی نوعیت کی سزائیں دیتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ عجیب و غریب احکامات بھی دیے جاتے رہے ہیں۔ ایک بار پھر اُنہوں نے خواہ مخواہ مسکرانے یا ہنسنے والوں کو بھی سزا دینے کا اعلان کیا تھا۔

