English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزارت خزانہ کا کابینہ کی منظوری کے بغیر عملے کو 24 کروڑ کا اعزازیہ دینے کا انکشاف

 اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وزارتِ خزانہ نے خلاف قانون افسران و عملے کو 1 سال میں 24 کروڑ روپے کے 4 اعزازیے جاری کیے۔

آڈٹ رپورٹ 2023-24 کے مطابق وزارت خزانہ کے گریڈ ایک سے 20 تک کے عملے کو 22کروڑ 54 لاکھ روپے اعزازیہ ملا جب کہ گریڈ 21 اور 22 کے افسران کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اعزازیہ دیا گیا ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قانون کے تحت وفاقی ملازمین کو خصوصی کام پر ایک اعزازیہ دیا جاسکتا ہے اور وزیراعظم نے 2020 میں ہدایات دی تھیں کہ فنانس ڈویژن یا ای سی سی اعزازیے کی منظوری نہیں دے سکتی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سال میں ملازمین کو بنیادی تنخواہ کے برابر 4 اعزازیے جاری کرنا خلاف قانون ہے، وزارت خزانہ نے ا نکم ٹیکس بچانے کے لیے اعزازیہ کراس چیک کی بجائے ڈیمانڈ ڈرافٹ پرجاری کیا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق اعزازیے کو تنخواہ میں شامل نہ کرکے افسران کے انکم ٹیکس سلیب کو کم رکھا گیا جب کہ وزارت خزانہ نے ملازمین کو اعزازیہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے