امریکا کے صدارتی انتخاب میں تارکینِ وطن کی زیادہ سے زیادہ ہمدردیاں بٹورنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس بھارتی نژاد ماں باپ کی بیٹی ہیں اور اس حوالے سے وہ امریکا میں بسے ہوئے بھارتی نژاد باشندوں اور اُن کی اولاد سے ووٹوں کی متمنی ہیں۔
دوسری طرف سابق صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ اُنہیں بھی تارکینِ وطن کے زیادہ سے زیادہ ووٹ ملیں۔ وہ اب تک تارکینِ وطن کے خلاف شدید نفرت کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں مگر کملا ہیرس کی نسلی شناخت کا تمسخر بھی اڑایا ہے تاہم اِس کے باوجود ووٹ مانگنے کے معاملے میں وہ بھارتی لابی کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہیں۔
امریکا میں آباد ہندوؤں کے ایک بڑے گروپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ گروپ نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھارت نواز ہیں اور اگر وہ دوبارہ صدر منتخب ہوئے تو امریکا اور بھارت کے تعلقات تیزی سے پروان چڑھیں گے۔ ہندوز فار امریکا فرسٹ کے بانی چیئرمین اُتسَو سندوجا نے کہا ہے کہ کملا ہیرس کا امریکی صدر کے منصب پر فائز ہونا امریکا اور بھارت کے تعلقات کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
اُتسَو سندوجا کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ اگر کملا ہیرس صدر بن گئیں تو امریکا میں ہندوؤں کے لیے معاملات بگڑ جائیں گے کیونکہ وہ ہندوؤں کے خلاف جائیں گی۔ اُنہوں نے اہم ترین ریاستوں پنسلوانیا، جارجیا اور نارتھ کیرولائنا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے خصوصی مہم چلانے کا بھی اعلان کیا۔
ایک انٹرویو میں اُتسَو سندوجا نے کہا کہ اگر کملا ہیرس کو قوم نے منتخب کیا تو وہ اہم عہدوں پر ایسے لبرل بھیڑیوں کو تعینات کریں گی جو مسائل پیدا کریں گے اور سپریم کورٹ کی رولنگز کے خلاف جاکر ایشین امریکن ووٹز پر اثر انداز ہوں گے۔
اُتسَو سندوجا کا یہ بھی کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کے عہد میں کملا ہیرس سیکنڈ اِن کمانڈ رہی ہیں مگر اُنہوں نے ملک کی سلامتی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ اُن کے اور بائیڈن کے عہد میں امریکا کی سرحدیں محفوظ نہیں رہیں۔ اُنہوں نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات سے گریز کیا ہے۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد سے ملک میں جرائم بڑھے ہیں، منشیات کی تجارت کو فروغ ملا ہے اور اقلیتوں بالخصوص ایشیائی برادری سے تعلق رکھنے والے آجروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ہندوز فار امریکا فرسٹ کے بانی چیئرمین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے امریکا کو غیر قانونی تارکینِ وطن سے پاک رکھنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے اور اُن کے عہدِ صدارت میں دفاع اور ٹیکنالوجیز کے حوالے سے بھارت سے اشتراکِ عمل بڑھا۔

