English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تارکینِ وطن کی آمد روکنے کے لیے امریکا نے تجوری کا منہ کھول دیا

امریکا نے تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پریشان ہوکر اُن کی ٓمد روکنے کی خاطر تجوری کا منہ کھول دیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی حکومت اُن تمام ممالک سے معاہدے کر رہی ہے جہاں سے گزر کر غیر قانونی تارکینِ وطن امریکی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں۔

غیر قانونی تارکینِ وطن، جن میں اکثریت بھارتی باشندوں کی ہوتی ہے، وسطی امریکا کے ممالک گوئٹے مالا، کوسٹاریکا، پناما اور السلواڈور سے گزرتے ہوئے میکسیکو پہنچتے ہیں۔ میکسیکو میں واقع امریکا کی جنوبی سرحد سے انسانی اسمگلرز غیر قانونی تارکینِ وطن کو کسی نہ کسی طور امریکا میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امریکا نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد روکنے کے لیے متعلقہ ممالک سے خصوصی معاہدے کیے ہیں تاکہ وہاں تک پہنچنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکا کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی واپس بھیجا جاسکے۔

پناما نے امریکا سے کیے جانے والے معاہدے کے تحت بھارت سے تعلق رکھنے والے 130 غیر قانونی تارکینِ وطن کو ڈی پورٹ کردیا ہے۔ امریکا تمام اخراجات کی مد میں پناما کو 60 لاکھ ڈالر ادا کرے گا۔ یہ 130 بھارتی باشندے سخت نامساعد حالات میں ڈیرین نامی جنگل سے گزر کر پناما میں داخل ہوئے تھے۔

پناما نے دو ہفتوں میں مجموعی طور پر 219 غیر قانونی تارکینِ وطن کو ڈی پورٹ کیا ہے اور مزید کو ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

ایسے ہی معاہدے وسطی امریکا کی دیگر ریاستوں سے بھی کیے گئے ہیں تاکہ وہاں تک پہنچنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ڈی پورٹ کردیا جائے۔ امریکی حکام ایسی صورتِ حال سے بچنا چاہتے ہیں کہ غیر قانونی تارکینِ وطن ملک میں داخل ہوں تو اُن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کے بعد قانونی عمل بہت پیچیدہ ہے۔ بیشتر غیر قانونی تارکینِ وطن قوانین میں پائی جانے والی گنجائش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کرتے ہیں اور پھر ایک طویل قانونی کارروائی کے بعد اُن میں سے بہت سوں کو امریکا میں مستقل قیام کا اجازت نامہ مل بھی جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے