بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں ایک بار پھر پُرتشدد وارداتیں شروع ہوگئی ہیں۔ عسکریت پسندوں کے حملوں میں کئی افراد مارے گئے ہیں۔ ہفتے کو ایک بڑے حملے میں پانچ افراد کو قتل کردیا گیا۔ فورسز نے ایک چھاپہ مار کارروائی میں اسلحے اور گولا بارود کی کھیپ پکڑی ہے۔
منی پور کے وزیرِاعلیٰ این بیرین سنگھ نے حکمراں اتحاد سے تعلق رکھنے والے ریاستی اسمبلی کے ارکان کے ساتھ میٹنگ کے علاوہ گورنر سے بھی ملاقات کی ہے تاکہ تشدد کی نئی لہر پر قابو پایا جاسکے۔ انہوں نے گورنر ایل آچاریہ کو ریاست کی صورتِ حال سے آگاہ کیا۔
منی پور میں عسکریت پسند اب ڈرونز اور راکٹ بھی استعمال کر رہے ہیں۔ فورسز نے ریاست کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر کامبنگ آپریشن شروع کیا ہے۔ خفیہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ عسکریت پسندوں کے حملوں میں فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔
منی پور میں گزشتہ مئی میں نسلی اور لسانی فسادات پھوٹ پڑے تھے اور یہ سلسلہ اب تک تھما نہیں۔ یہ تصادم اور کشیدگی قبائل کے درمیان پائے جانے والے قضیے کا شاخسانہ ہے۔ ریاستی حکومت عسکریت پسندوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ بڑے پیمانے پر فورسز کی تعیناتی سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے ہیں۔

