جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل کاکہنا ہے کہ سوڈان میں 16 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شمال مشرقی افریقا میں واقع ملک کو تباہ کرنے والا یہ تنازع ایک ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم نے پورٹ سوڈان کے شہر میں پریس کانفرنس کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا اعلان کیا۔ یہ شہر فوج کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ سوڈان کے اپنے 2روزہ دورے کے اختتام پر انہوں نے مزید کہا کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے، سوڈان ایک طوفانی بحران کا شکار ہے، تباہی کی حد چونکا دینے والی ہے، تنازعات کو کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات ناکافی ہیں۔ واضح رہے سوڈان اپریل 2023 ء میں اس وقت افراتفری کا شکار ہوگیا جب فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد دونوں فریقوں نے کھلی جنگ شروع کردی۔ تنازع نے دارالحکومت خرطوم اور دیگر شہری علاقوں کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ۔ اس جنگ سے شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا اور صحت کی دیکھ بھال کا پہلے سے ہی خستہ حال نظام مزید تباہ ہوگیا۔ کئی اسپتالوں اور طبی مراکز نے بھی اپنے دروازے بند کر لیے ۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا کہنا ہے کہ تصادم کے آغاز سے اب تک ایک کروڑ 30لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، ان میں 23لاکھ سے زیادہ ایسے ہیں جو ہمسایہ ممالک میں بھاگ کر پناہ گزین بن گئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے کہا ہے کہ لڑائی میں دونوں فریقوں کو مظالم کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھا گیا گیا، ان مظالم میں اجتماعی عصمت دری ، نسلی قتل و غارت گری، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل تھے۔ حالیہ ہفتوں میں تباہ کن موسمی سیلاب نے بحران کو مزید بڑھا دیا ۔ سیلاب میں سوڈان کے 18 صوبوں میں سے 12 میں درجنوں افراد ہلاک اور انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا۔ اس کے علاوہ ہیضے کی وبا بھی تازہ ترین آفت بن گئی ہے۔
