حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)میرجماعت اسلامی سندھ وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہاہے کہ سندھ کے سگھڑ شعرا کا کلام سراپا سچ اور اسلامی اقدار کا عکاس ہوتا ہے، شعراء سندھ کی ثقافت اور زبان کے محافظ ہیں۔لوک ادب کے شاعروں کی داد رسی وسرپرستی کرنے کیلیے سندھ اسمبلی میں آواز اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سندھی لوک ادب کے شاعر ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں جنہوں نے سندھ کے اسلامی رسم ورواج،تہذیب اور زبان کو زندہ رکھنے کیلیے اہم کردار ادا کیا ہے۔لوک ادب سے وابستہ شاعروں اور ادیبوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے بلکہ انکا مقدمہ ہر محاذ پر پیش کریں گے، سندھ باب الاسلام ہے قیام پاکستان کی پہلی متفقہ قرارداد بھی سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی،سندھ اسلام کا گیٹ وے بنا جہاں سے پورے برصغیر میں اسلام کی روشنی پھیل گئی۔جماعت اسلامی ملک کو قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد کی طرف لے جانے کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔سندھ کے لوک ادب سے وابستہ شعرا اپنے کلام کے ذریعے عوام کے اندر شعوراجاگر،معاشرے میں بدی کے خاتمے اورحق کے غلبے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے حیدرآبادکلب کے سیمینارہال میں رہبرادبی سوسائٹی کے زیراہتمام شاہ لطیف ایوارڈ یافتہ شاعرگل حسن گل ملک کے اعزازمیں منعقدہ تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی امیر نے سندھ حکومت کے کلچرل ڈپارٹمنٹ کی جانب سے شاہ لطیف ایوارڈ 2024ملنے پر گل حسن گل ملک کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی زبان،ثقافت اورتہذیب کو بچانے کیلیے ایسے ہزاروں گل ملک پیدا کرنے ہونگے جو اپنی نظم اور نثر کے ذریعے سندھ کا کیس لڑیں اور آنے والی نسلوں میں شعور پیدا کریں۔حقیقت میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام توحید، امن اور انسانیت سے محبت کرنے کا درس دیتا ہے۔ تقریب میںمیں سندھ بھر سے بڑی تعداد میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کرکے گل حسن گل ملک کومبارکباد،سندھ کی سوکھڑی اجرک، گلدستے اور، گلدتے اور کتب کے ساتھ شاعری کے ذریعے ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔سیمینار میں شریک لوک ادب کے نوجوان محقق اور سلات کے بانی چیئرمین رحمت اللہ عاجز لاشاری،راس کے صدر علی نواز ڈومکی، سپلاکے پروفیسر شاہ جہان پہنور،عربی ادب کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر اشرف سموں، دعوۃ اکیڈمی کے ڈاکٹرشہزاد چنا،تعلیمی ماہر سرورملاح، سابق ایم پی اے عبدالوحید قریشی،ادبی اسکالر عبدالحفیظ احمدانی،لوک ادب کے شعرا محمدیعقوب جاگیرانی،خادم حسین،نظیراحمد میمن، سلیمان جونیجو، الہڈنو بروہی اور حسن ٹالپر سمیت دیگر کا کہنا تھا کہ لوک ادب سندھ کا اصل ورثہ ہے جس کو ہمارے اداروں نے فراموش کردیا ہے، سندھ کے ثقافت کے محکمے سمیت سندھی ادبی بورڈ،اکادمی ادبیات،مرزاقلیچ بیگ چیئر،ڈاکٹر نبی بخش بلوچ چیئر، این اے بلوچ انسٹی ٹیوٹ سمیت دیگر اداروں نے آج تک لوک ادب کا کوئی بھی ادارہ قائم نہیں کیا ہے جس سے ان کی عدم توجہی اور بے حسی صاف ظاہر ہے۔ لوک ادب کو نظرانداز کرکے محض گانے بجانے وناچنے والوں کو ترجیح دی جارہی ہے، اگر سندھی زبان کو زندہ رکھنا ہے تو سندھی لوک ادب کی سرپرستی کرنا ہوگی۔
