اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے 8 گھنٹوں کی غیرحاضری کے بعد وضاحت پیش کردی ہے۔
پی ٹی آئی کے بیان کے مطابق علی امین گنڈا پور نے اسلام آباد میں سرکاری حکام سے طویل ملاقات کی، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ 8 گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کے بعد وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور وزیرِ اعلیٰ ہاؤس پشاور پہنچ گئے۔
ملاقات کی جگہ پر جیمرز کی تنصیب کی وجہ سے موبائل سروس معطل تھی، جس کے باعث ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
علی امین گنڈا پور کے بھائی فیصل امین نے اپنے ٹوئٹ میں اطلاع دی ہے کہ ان کا اپنے بھائی کے ساتھ رابطہ ہو گیا ہے۔
فیصل امین کے مطابق سات گھنٹے کے بعد علی امین گنڈا پور کا موبائل دوبارہ آن ہو چکا ہے۔
اس سے قبل علی امین گنڈا پور کی غیر حاضری کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا تاہم اب رابطہ بحال ہونے پر یہ معاملہ واضح ہو گیا ہے۔
قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا تھا کہ علی امین گنڈا پور سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور انہیں وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا۔
دوسری جانب علی امین گنڈا پور بیمار پڑ گئے ہیں۔ انہیں آج صبح ڈرپ لگائی گئی تھی جس کی وجہ سے وہ پارلیمانی پارٹی اور اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

