English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غزہ میں اسرائیلی فوج کا ہیلی کاپٹر گرکر تباہ،2 فوجی ہلاک ،متعدد زخمی

غزہ: البریج مہاجر بستی میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے تباہ شدہ عمارتوںکے قریب لوگ جمع ہیں
غزہ: البریج مہاجر بستی میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے تباہ شدہ عمارتوںکے قریب لوگ جمع ہیں

غزہ /تل ابیب /بیروت /جنیوا (اے پی پی / مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ رات جنوبی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے سے 2 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 123 ویں اسکواڈرن کا ایک UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر یونٹ 669 میڈیکل ٹیم کے ساتھ علاقے میں ملٹری کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے اہلکار کو نکالنے کے لیے رفاہ گیا تھا‘ ہیلی کاپٹر حادثے میں دہشت گردی کے شواہد نہیں ملے۔حادثے میں ہیلی کاپٹر کو شدید نقصان پہنچا اور اس میں سوار تمام افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 2 فوجی اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی گئی جب کہ 4 کی حالت تشویشناک ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے المواصی کیمپ حملے میں امریکی بم استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے محفوظ علاقہ قرار دیے گئے المواصی کیمپ پر وحشیانہ حملہ کیا، بے گھر فلسطینیوں پر 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم برسائے‘ بمباری سے 40 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے، طاقتور بموں کے استعمال سے شہدا کی باقیات تک پگھل گئیں‘ درجنوں خیموں میں آگ لگ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بم گرنے کی جگہوں پر30 سے50 فٹ گہرے گڑھے پڑ گئے۔غزہ پر 7 اکتوبر 2023 کے بعد گزشتہ 11 ماہ سے جاری حملوں میں فلسطینی شہدا کی تعداد 41 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ادھر اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں فائرنگ کرکے 2 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ جنوبی لبنان میں موٹر سائیکل پر اسرائیلی ڈرون حملے میں حزب اللہ رکن شہید ہوگئے۔ فلسطین نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رکن ممالک کے درمیان نشست حاصل کر لی، یہ ایک نیا حق ہے جو فلسطینی وفد کو ادارے کا مکمل رکن نہ ہونے کے باوجود دیا گیا۔ عرب میڈیا کے مطابق مئی میں جنرل اسمبلی کی بھاری اکثریت نے زور دے کر کہا تھا کہ فلسطینی مکمل رکنیت کے حقدار ہیں لیکن اس اقدام کو امریکا نے روکا۔جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد میں وفد کو بعض نئے حقوق عطا کیے لیکن یہ اسے ووٹ دینے یا سلامتی کونسل کا رکن بننے سے بدستور خارج کیے ہوئے ہے۔ اقوامِ متحدہ میں فلسطینی ایلچی ریاض منصور نے منگل کی سہ پہر سری لنکا اور سوڈان کے درمیان “ریاست فلسطین” کے نشان والی میز پر اپنی جگہ سنبھالی۔ اسرائیل کے وزیردفاع یووا گیلنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فورسز اپنا مشن مکمل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہیں اور اب توجہ لبنان کے ساتھ شمالی سرحد کی طرف ہوگی جہاں حزب اللہ کے ساتھ روزانہ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیردفاع یووا گیلنٹ نے شمالی سرحد پر اپنے فوجیوں کو وڈیو پیغام میں کہا کہ توجہ شمال کی طرف پر مبذول ہو رہی ہے کیونکہ جنوب میں ہم اپنا کام مکمل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں لیکن یہاں ہمارا مشن پورا نہیں ہوا۔ دوسری جانب اسرائیلی رہنما کہہ چکے ہیں وہ ایسے مذاکرات کو ترجیح دیں گے جس کے تحت حزب اللہ کے جنگجو سرحد سے دور چلے جائیں جبکہ حزب اللہ کا کہنا ہے وہ اسرائیل کے خلاف بدستور لڑتے رہیں گے جب تک غزہ جنگ بند نہیں ہوتی ہے۔یوواگیلنٹ نے کہا کہ ہم شمالی محاذ پر سیکورٹی صورت حال تبدیل کرنے اور شہریوں کو بحفاظت گھروں میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ اگر حماس تمام 101 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردے اور آئندہ ہتھیار اُٹھانے سمیت شدت پسندی سے دستبرداری کی یقین دہانی کرائے تو یحییٰ السنوار سمیت اہم رہنمائوں کو محفوظ راستہ دینے کو تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے یرغمالی اور لاپتا افراد سے متعلق اسرائیلی چیف رابطہ کار گال ہیرش نے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے غزہ جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کے نزدیک غزہ میں جنگ بندی کا بھی یہی سب سے بہتر آپشن ہے جس پر فریقین کو اب متفق ہوجانا چاہیے۔ بعد ازاں گال ہیرش نے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں بھی اسی تجویز کو دہراتے ہوئے کہا کہ میں یحییٰ السنوار، ان کے اہل خانہ اور جو کوئی بھی ان کے ساتھ شامل ہونا چاہے، ان سب کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں‘ ان کی حماس کو یہ پیشکش کو قریب قریب 2 روز ہوگئے ہیں لیکن اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔اسرائیلی رابطہ کار نے مزید کہا کہ ہم یرغمالیوں کی واپسی، جنگجوئوں کا ہتھیاروں کا ڈالنا اور شدت پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں جس کے بعد ایک نیا نظام غزہ کا انتظام چلائے گا ۔فارن پریس ایسوسی ایشن (ایف پی اے) نے آزادی صحافت اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے ایک بار پھر اسرائیلی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔فارن پریس ایسوسی ایشن نے اسرائیل سے غزہ تک عالمی میڈیا کی بلا روک ٹوک رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی کوریج سے عالمی میڈیا کو دور رکھنے کا اسرائیلی اقدام مایوس کن ہے‘ آزادی صحافت پر جمہوری اقدارکی بات کرنے والے ملک کا یہ رویہ بہت حیران کن ہے ‘اسرائیل نے غزہ جنگ تک رسائی دینے کی ہماری بار بار کی گئی درخواستوں کو مسترد کیا۔ایف پی اے نے کہا کہ غزہ میں موجود فلسطینی صحافی بھی مستقل اسرائیلی پابندیوں کا شکار رہے، متعدد فلسطینی صحافی فرائض کی انجام دہی میں شہید کر دیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے