روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کو دور میزائل فراہم کرنا پورے یورپ کے لیے خطرناک ہوگا۔ مغربی دنیا کی طرف سے یوکرین کو یہ میزائل دینا روس کے نزدیک معاہدہ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کے پلیٹ فارم سے کیا جانے والا اقدام تصور کیا جائے گا۔
ایک انٹرویو میں روسی صدر نے کہا کہ یوکرین کو دور مار میزائل اور دیگر جدید ترین ہتھیار فراہم کرکے مغربی طاقتیں دراصل روس کی حملے اور جوابی حملے کرنے کی صلاحیت کا گراف نیچے لانا چاہتے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر یورپ اور امریکا نے یوکرین کو جدید ترین ہتھیار دینے کا سلسلہ نہ روکا تو جنگ کی نوعیت بدل جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی یوکرین کو مغربی دنیا سے مل رہا ہے وہ نیٹو کی طرف سے دیا جانے والا اسلحہ خانہ تصور کیا جائے گا اور روس اس حوالے سے جوابی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ولادیمیر پوٹن کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک اور امریکا مل کر یوکرین کے ہاتھ مضبوط نہیں کر رہے بلکہ تیسری عالمی جنگ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اگر روس کی عسکری قوت گھٹانے کی کوشش کی جاتی رہی تو وہ یوکرین جنگ کا دائرہ بڑھانے پر مجبور ہوگا۔

