افریقی ریاست کانگو میں ناکام بغاوت کے بعد چلائے جانے والے مقدمے میں تین امریکیوں کو سزائے موت سُنادی گئی ہے۔ اِن میں بغاوت برپا کرنے والے لیڈر کا بیٹا بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر 37 افراد کو سزائے موت سُنائی گئی ہے۔ تینوں امریکیوں پر ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ اس بات کا تعین ابھی باقی ہے کہ اِن تینوں کو سزائے موت کب دی جائے گی۔
بغاوت امریکی میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے والے لیڈر کرسچین میلینگا نے برپا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس ناکام بغاوت میں مختلف النوع کردار ادا کرنے کی پاداش میں 50 سے زائد افراد پر مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ ان میں برطانیہ، کینیڈا اور بلیجیم کے باشندے بھی شامل ہیں۔ سزائے موت پانے والا بنجامین زیلمن پولُن بھی امریکی ہے اور کرسچین میلینگا کا بزنس ایسوسی ایٹ رہا ہے۔ تینوں امریکیوں کو اپیل کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔
کرسچین میلینگا کے بیٹے ٹیلر ٹامس نے بتایا کہ وہ اس بغاوت میں شریک نہیں تھا، اُس پر اُس کے والد نے دباؤ ڈالا تھا جس کے باعث وہ خود کو الگ تھلگ رکھنے میں ناکام رہا۔
بغاوت کے دوران کرسچین میلینگا اور اُس کے ساتھیوں نے دارالحکومت کنشاسا میں ایوانِ صدر کی ایک عمارت پر کچھ دیر کے لیے قبضہ کرلیا تھا۔ یہ مقدمہ بہت اہم تھا اور پوری قوم فیصلے کا انتظار رہی تھی اس لیے عدالتی فیصلہ سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر کیا گیا۔

