English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آئینی ترمیم کے معاملے پر اسمبلی کا اجلاس نے بے نتیجہ آج پھر ہوگا

اسلام آباد: پی ٹی آئی کا وفد جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کے بعد واپس جارہاہے
اسلام آباد: پی ٹی آئی کا وفد جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کے بعد واپس جارہاہے

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)مطلوبہ ارکان کی حمایت نہ ملنے کے باعث حکومت ججز کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ترمیم پارلیمنٹ میں لانے میں ناکام‘قومی اسمبلی کااجلاس رات 11بجے کے بعد چند منٹ جاری رہنے کے بعد آج پیر کو ساڑھے 12بجے تک ملتوی کردیا گیا‘ وفاقی کابینہ کااجلاس بھی کئی بارملتوی کرنا پڑتا‘ حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو منانے کی کوششیں آخری وقت تک جاری رہیں‘ مولانافضل الرحمن کا ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت سے انکار‘ آئینی عدالت کی مشروط حمایت کردی‘پاکستان تحریک انصاف سے رابطے اورمشاورت کا مشورہ ‘ سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی بی این پی مینگل کے رہنماؤں سے ملاقات‘ آئینی ترامیم پر حمایت کاتقاضا‘ حکومت سے سامنے مطالبات رکھنے کی یقینی دہانی بھی کرادی۔تفصیلات کے مطابق‘ مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ ہاؤس میں خصوصی کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور نظام کار کا اجلاس رات گئے تک جاری رہا‘ مولانافضل الرحمن کی پی ٹی آئی رہنماؤں سے کئی بارمشاورت جاری رہی‘ جبکہ نوازشریف‘وزیراعظم شہبازشریف اور نائب وزیراعظم اسحق ڈارکی مولانا سے ملاقات نہ ہوسکی۔حکومت نے اتحادی جماعتوں کے ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کردی‘ حکومت کی مجوزہ آئینی اصلاحاتی پیکج کی تفصیلات کے مطابق مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ ہاؤس میں خصوصی کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور نظام کار کا اجلاس شروع ہوچکا ہے، جس میں جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی شرکت کی۔ سربراہ جے یو آئی نے اجلاس میں حکومت کو بل کل تک مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔دن بھر مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پی ٹی آئی اور حکومت کے وفود کی آنیاں جانیاں لگی رہیں، دونوں ہی مولانا فضل الرحمان کو اسمبلی اور سینیٹ اجلاس میں اپنی اپنی حمایت کیلئے مناتے رہے۔ لیکن فضل الرحمان نے بل دیکھے بنا طرفداری نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔بالآخر یہ ملاقاتیں اختتام کو پہنچیں اور اس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بل دیکھے پڑھے بغیر ووٹ کیسے دے سکتے ہیں؟ ہم نے کہا کہ بل پیش نہ کیا جائے، ہم اجلاس میں اپنا مؤقف کھل کر سامنے رکھیں گے، حکومت کی جانب سے جلدی کی جا رہی ہے، حکومت سے کہا ہے کہ اسے مؤخر کریں تاکہ ہم بل پڑھ سکیں۔اس کے باوجود حکومت نے دعویٰ کیا کہ ان کے نمبرز بل پاس کروانے کیلئے پورے ہوچکے ہیں۔ طویل ملاقاتوں کے بعد مولانا فضل الرحمان خصوصی کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور نظام کار کے اجلاس میں شرکت کیلئے قومی اسمبلی پہنچے۔ اجلاس میں راجہ پرویز اشرف، رانا تنویر، عرفان صدیقی، انوشہ رحمان، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین، اعجاز الحق، سید نوید قمر شریک ہوئے۔سینیٹر ایمل ولی خان، سینیٹر شیری رحمان، عمر ایوب، بیرسٹر گوہر اور صاحبزادہ حامد رضا بھی کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے۔ وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ، بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بھی اجلاس میں شرکت کی۔ مولانا فضل الرحمن اسمبلی پہنچے تو سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قوم کیلئے خوشخبری ہوگی۔صحافی کا سوال کیا کہ مولانا پی ٹی آئی کو آپ منوالیں گے؟ صحافی کے سوال پرمولانا کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ بکھر گئی۔ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ آپ سے ڈرافٹ نہیں شیئر کیا جارہا، کیا حکومت کو آپ پر اعتماد نہیں؟ جس پر فضل الرحمان جواب دیئے بغیر آگے بڑھ گئے۔مولانا فضل الرحمان کمیٹی روم تک پہنچے تو محسن نقوی انہیں کمیٹی روم تک چھوڑنے گئے اور نائب وزیراعظم نے مولانا کو دروازے پر ویلکم کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر خورشید شاہ کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے شرکاء کو بریفنگ دی۔دوران اجلاس مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو تجویز دی کہ آئینی ترمیمی بل کل تک کیلئے مؤخر کردیا جائے۔ذرائع کے مطابق ترمیم کے نکات میں ججز کو نکالنے کے طریقہ کار میں ترمیم بھی شامل ہیں، آئین میں آرٹیکل 63،51 اور آرٹیکل 175 میں ترمیم سمیت 20 سے زائد ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔علاوہ ازیں بی این پی مینگل کا وفدا سپیکر چیمبر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گیا۔کابینہ ذرائع کے مطابق بی این پی مینگل کے قائم مقام صدر ساجد ترین، سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی وفد کولیکر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے ہیں، بی این پی مینگل کاوفد صادق سنجرانی کے ہمراہ حکومتی وفد سے ملاقات کریں گے۔ کابینہ ذرائع نے مزید بتایا کہ بی این پی مینگل نے مجوزہ آئینی بل کا مسودہ مانگا ہے۔ دوسری جانب ذرائع کے جانب سے حکومت کی مجوزہ آئینی اصلاحاتی پیکج کی فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق مجوزہ آئینی ترمیم میں آرٹیکل 63 میں منحرف رکن کے ووٹ سے متعلق ترمیم اور بلوچستان اسمبلی کی سیٹیں 65 سے بڑھا کر 81 کرنے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق آئینی عدالت آرٹیکل 184، 185 اور ایک 186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرے گی، آئینی عدالت کے فیصلے پر اپیل آئینی عدالت میں سنی جائے گی، ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی مدت ملازمت نہیں بڑھائی جائے گی، مجوزہ ترامیم کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دوسرے صوبوں میں بھی بھیجا جاسکے گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر 5 سینئر ترین ججز کے پینل سے ہوگا، حکومت سپریم کورٹ کے 5 سینئرججز میں سے چیف جسٹس لگائے گی،آئینی عدالت کے باقی 4ججز بھی حکومت تعینات کرے گی، ججز تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو اکٹھا کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ آئین کا آرٹیکل 181 ججز کے عارضی تقرر سے متعلق ہے،آئین کا آرٹیکل 184 از خود نوٹس اختیار سے متعلق ہے،آئین کا آرٹیکل 185 فیصلوں پر اپیل سے متعلق ہے،آئین کا آرٹیکل 186 صدارتی وضاحت پر سپریم کورٹ کے اختیار سے متعلق ہے۔ آئین کا آرٹیکل 63 ڈی فیکشن کلاز پارٹی سربراہ کے اختیار سے متعلق ہے،آئین کا آرٹیکل 51 مخصوص نشستوں سے متعلق ہے،آئین کا آرٹیکل 175 سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کی تعیناتی سے متعلق ہے،آئین کا آرٹیکل 187 سپریم کورٹ، ہائی کورٹس کی تشکیل اور ججز کی تقرریوں سے متعلق ہے۔ کابینہ ذرائع کے مطابق مجوزہ آئینی ترامیم میں 22 شقیں شامل ہوں گی، وفاقی حکومت آئین کی شقیں 51، 63، 175، 187، 195 میں ترامیم بھی شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ ترامیم میں بلوچستان اسمبلی کی نمائندگی میں اضافے کی ترمیم بھی شامل ہیں، آئینی ترامیم میں بلوچستان کی نشستیں 65سے بڑھا کر 81 کرنے کی تجویز دی گئی ہے، منحرف اراکین اسمبلی کے اوتھ سے متعلق بھی مجوزہ ترمیم کا حصہ ہے۔کابینہ ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کے لئے پانچ سینئر ججز کا پینل وزیراعظم کو بھجوانے کی تجویز دی گئی ہے، وزیر اعظم پانچ سینئر ججز میں سے کسی ایک کو چیف جسٹس آف پاکستان تعینات کرسکیں گے۔ذرائع نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو بااختیار بنانے کیلئے جوڈیشل کمیشن کیساتھ اکٹھا کردیا جائے گا، پارلیمانی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن کے اکٹھا ہونے کے بعد ہائیکورٹس کے ججز میں سے پہلے 5 ججز میں کسی ایک کو چیف جسٹس تعینات کرنے کی منظوری لی جاسکے گی۔کابینہ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا، آئینی عدالت کے لئے الگ سے چیف جسٹس آف پاکستان کا تقررہوگا، آئینی عدالت میں کل پانچ ججز کام کریں گے، ہائیکورٹس کے ججز کے ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں تبادلے بھی مسودے کا حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے