بھارت کے چند بڑے مندروں میں پرساد کے طور پر بانٹے جانے والے لڈوؤں نے بھی عجیب ہی قضیہ کھڑا کردیا ہے۔
چند روز قبل جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے وزیرِاعلیٰ چندرا بابو بائیڈو نے الزام لگایا تھا کہ جنوبی ہند کے معروف تروپتی مندر میں پرساد کے طور پر بانٹے جانے والے لڈو دراصل ایسے گھی سے بنائے گئے تھے جن میں گائے اور خنزیر کی چربی کے علاوہ مچھلی کا تیل بھی شامل تھا۔
رجعت پسند اور کٹر ہندو ایسی کوئی بھی چیز کھانا پسند نہیں کرتے جس کی تیاری میں جانوروں کی چربی یا اُس کے اجزا شامل کیے گئے ہوں۔ تروپتی مندر میں تقسیم کیے جانے والے لڈوؤں کے بارے میں متنازع بیان اُس وقت سامنے آیا جب اِن لڈوؤں کے نمونے جانچ پڑتال کے لیے مغربی ریاست گجرات کی ایک لیب میں بھیجے گئے۔ لیب رپورٹ سے تصدیق ہوگئی کہ یہ لڈو دیسی گھی سے نہیں بلکہ ایسے گھی سے تیار کیے گئے تھے جس میں گائے اور خنزیر کی چربی کے علاوہ مچھلی کا تیل بھی شامل تھا۔
اب ایودھیا کے رام جنم بھومی مندر کے مہا پجاری آچاریہ ستییندر داس نے بتایا ہے کہ جنوری 2024 میں رام مندر کے افتتاح کے موقع پر تقریب کے شرکا میں تروپتی مندر سے منگوائے گئے لڈو تقسیم کیے گئے تھے۔ اُن کا یہ بیان اس لیے متنازع قرار دیا جارہا ہے کہ رام مندر کا نظم و نسق چلانے والے ٹرسٹ کے سیکریٹری چمپت رائے کا کہنا ہے کہ مندر کی افتتاحی تقریب کے شرکا میں پرساد کے طور پر صرف الائچی کے دانے تقسیم کیے گئے تھے۔
رام مندر کی افتتاحی تقریب میں جانوروں کی چربی والے گھی سے تیار کردہ لڈو پرساد کے طور پر تقسیم کیے جانے کے معاملے پر بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو شدید نکتہ چینی کا سامنا ہے۔ رام مندر کی افتتاحی تقریب کا اہتمام بھارتیہ جنتا پارٹی کی چھتری تلے ہوا تھا۔

