English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

missing persons

کراچی : پاکستان تحریک انصاف نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں حال ہی میں متعارف کردہ پریکٹس اور پروسیجر آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا ہے، جسے وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرڈیننس آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے جب تک اس پر عدالتی نظر ثانی نا کی جائے اسے فوری طور پر معطل کیا جائے ۔

پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنچ کے فیصلے سے متصادم ہے۔

درخواست کے مطابق بنچ نے پہلے فیصلہ دیا تھا کہ آرڈیننس صرف ہنگامی صورت حال میں ہی جاری کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی نے مزید استدلال کیا کہ پارلیمانی اجلاس کے فوراً بعد آرڈیننس جاری نہیں کیا جا سکتا یہ آئینی اصولوں کی خلاف ہے ۔

درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت آرڈیننس کا استعمال کر کے ججوں کو سیاسی معاملات میں ملوث کر رہی ہے، جو کہ غیر آئینی اقدام ہے۔

پی ٹی آئی نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دے اور اس کے نفاذ کو حتمی فیصلے تک معطل کر دے۔

درخواست دائر کرنے کے بعد پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج اس ترمیم کو چیلنج کرنے آئے ہیں جو پیش کی جا رہی ہے۔ حکومت عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم نے 2023 میں پریکٹس اور پروسیجر ایکٹ کے خلاف بھی ایسی ہی درخواست دائر کی تھی اور 2007 میں ہم نے عدلیہ کے ساتھ کھڑے تھے آج بھی عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

پی ٹی آئی کا یہ قانونی چیلنج اس وقت سامنے آیا ہے جب عدلیہ کے سیاسی معاملات میں ملوث ہونے اور حکومت کے آرڈیننس کے استعمال پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔

پارٹی نے عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس سے قبل پریکٹس اور پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، جس میں درخواست کی گئی تھی کہ عدالت اسے غیر آئینی قرار دے اور اس سلسلے میں کیے گئے تمام احکامات یا اقدامات کو کالعدم قرار دے۔

درخواست گزار منیر احمد نے اپنے وکیل اظہر صدیق کے ذریعے درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ اس آرڈیننس کو آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکلز 9، 10، 10-A، 14، 17، 25، 37، 38، 46، 48، 75 اور 89 کے ساتھ پڑھ کر آرٹیکلز 4 اور 5 کے مطابق غیر آئینی قرار دیا جائے۔

درخواست گزار کے وکیل نے درخواست میں کہا کہ اس آرڈیننس کے تحت کیے گئے تمام احکامات یا اقدامات آئینِ پاکستان 1973 میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مزید درخواست کی کہ عدالت جواب دہندگان کو ہدایت دے کہ وہ آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 19-A کے تحت تمام مطلوبہ معلومات، تفصیلات اور دستاویزات فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ ان ترامیم کی حمایت نہیں کی جا سکتی، اس لیے آرڈیننس کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ اور ثقافت، عطا اللہ تارڑ نے آرڈیننس کی اہم دفعات کی وضاحت کی۔

نئے قواعد و ضوابط کے تحت عدالتیں اب “پہلے آئیں، پہلے پائیں” کے اصول کی سختی سے پابندی کریں گی ۔ اس کا مطلب ہے کہ مقدمات کو ان کی فائلنگ کے مطابق سنا جائے گا، جس سے کسی بھی قسم کے ترجیحی سلوک کا امکان ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے وضاحت کی، “جو کیس پہلے آئے گا، اسے عدالت پہلے لے گی، اور اس کے بعد آنے والے کیسز ان کے نمبروں کے مطابق طے ہوں گے۔”

آرڈیننس کے تحت آئین کے سیکشن 184(3) کے تحت مقدمات کے نمٹانے کے طریقے میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اب یہ لازمی ہے کہ کسی کیس کو عوامی اہمیت کا معاملہ قرار دینے سے پہلے یہ واضح کیا جائے کہ یہ عوامی مفاد سے متعلق ہے یا انسانی حقوق کے مسائل پر مشتمل ہے۔

آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سیکشن 184(3) کے تحت دیے گئے کسی بھی حکم کے خلاف اپیل کا حق ہوگا۔

عدالتی عمل کو مزید شفاف بنانے کی کوشش میں آرڈیننس یہ لازمی قرار دیتا ہے کہ عدالت کی کارروائی کا مکمل ریکارڈ، بشمول ججوں کے تبصرے اور مشاہدات، تیار کیے جائیں اور عوام کے لیے قابل رسائی بنائے جائیں ۔

آرڈیننس کی ایک اور اہم خصوصیت پریکٹس اور پروسیجر ایکٹ کے تحت ایک کمیٹی کا قیام ہے۔ کمیٹی کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے، جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے جج اور ایک سینئر جج ممبر ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے