لبنان: اسرائیل کے حالیہ حملوں میں لبنان میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں 180 سے زائد افراد شہید اور 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ بعض ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 200 تک بتائی ہے۔
یہ حملے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا موڑ ہیں۔
برطانوی اخبار “دی گارجین” نے ان حملوں کو غزہ میں گزشتہ اکتوبر سے جاری لڑائی کے تناظر میں اسرائیل کے اب تک کے شدید ترین حملے قرار دیا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں اور دیہات کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق پیر کی صبح صیہونی افواج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر بمباری کی، جس میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن زخمیوں کی تعداد کے باعث اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔
لبنانی حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور بین الاقوامی برادری سے فوری طور پر مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان حملوں نے لبنان کے کئی علاقوں میں مزید کشیدگی اور انسانی بحران کو جنم دیا ہے جبکہ علاقائی سلامتی کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی لبنان پر خوفناک بمباری؛ 50 افراد شہید، 300 زخمی
واضح رہے کہ آج صبح اسرائیل کی جانب سے لبنان پر تازہ حملوں سے قبل لبنانی شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے حملوں سے چند گھنٹے پہلے لبنانی شہریوں کو ٹیکسٹ میسیجز بھیجے تھے جن میں حزب اللہ کے زیرِ استعمال گھروں اور عمارات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس پیغام میں واضح طور پر شہریوں کو متنبہ کیا گیا کہ اسرائیلی فضائی حملے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔ ان خبردار کنندہ پیغامات کے بعد حملوں سے قبل سائرن بھی بجائے گئے، جس کے فوراً بعد مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ آسمان سے بم برسنے لگے اور معصوم شہریوں پر ہر طرف سے حملے کیے گئے۔
جنوبی لبنان کے قصبوں اور دیہات میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا اور زخمیوں کی بڑی تعداد کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

