کندھکوٹ (نمائندہ جسارت) بدنام زمانہ ڈاکو خادم بھیو کی تاجروں سے تاوان لینے کی آڈیو وائرل، تاجر کو دھمکیاں دینے پر ایس یو پی کے ضلعی صدر دلمراد ڈاھانی اور ڈاکو خادم بھیو کی فون کال پر ایک دوسرے پر نازیبا الفاظ کی آڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل، پولیس خاموش تماشائی، اکثر تاجروں کو سی سیکشن تھانے کی حدود میں تاوان کی دھمکیاں ملنا پولیس کے لیے سوالیہ نشان بن گیا۔ تفصیلات کے ضلع بھر میں ڈاکوؤں کی جانب سے معززین، اقلیتی برادری اور تاجروں سے فون کے ذریعے دھمکیاں دے کر تاوان لینے کا شروع کیا گیا، پولیس مکمل معلومات ہونے کے باوجود بھی عوام کو تحفظ فراہم نہ کر سکی، بدنام انعام یافتہ ڈاکو خادم بھیو نے سی سیکشن تھانے کی حدود شکارپور روڈ پر جھولے لال آئرن اسٹور کے مالک انجینئر لال کو تاوان کے لیے فون پر دھمکیاں دیں جو آڈیو بھی وائرل ہو گئی جس کے بعد دکان کے مالک ایس یو پی کے ضلعی صدر دلمراد ڈاھانی اور خادم بھیو کے درمیان فون کال پر ایک دوسرے پر نازیبا الفاظ اور دھمکیاں دینے کی بھی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس کے باوجود پولیس غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کے بجائے سوئی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اکثر ڈاکوؤں کی جانب سے تاوان کی کالیں سی سیکشن تھانے کی حدود میں رہنے والے تاجروں اور دکانداروں کو مل رہی ہیں۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ایس یو پی کے ضلعی صدر دلمراد ڈاھانی نے بتایا کہ پولیس کی خاموشی کے باعث ڈاکو بے خوف ہو کر سندھ دھرتی پر رہنے والے ہندو برادری کے تاجروں سے لوٹ مار اور تاوان لے رہے ہیں جو تاوان دینے سے انکار کر رہا ہے تو بے خوف ہو کر ڈاکو دکانوں پر فائرنگ کر رہے ہیں، ایسے واقعات کی وجہ سے یہاں سے نقل مکانی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ ڈاکو کلچر، بھتا مافیا کے خلاف ہم نے آل پارٹیز کانفرنس طلب کی ہے، ظلم کیخلاف تحریک چلا کر شہریوں کو تحفظ فراہم کروائیں گے۔
