راولپنڈی: علیمہ خان نے کہا ہے کہ این او سی نہ ملا تو بھی جمعرات کو پنڈی میں احتجاج کریں گے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کے مطابق اگر عدالت میں آئینی ترامیم میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی گئی تو ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال کر دی جائے گی۔
علیمہ خان نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی کے خلاف جو اقدامات کیے ان کا مقصد پارٹی کو تباہ کرنا تھا تاکہ دوسری جماعتوں کو دو تہائی اکثریت دی جا سکے اور قاضی فائز کو توسیع ملے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ عمران خان نے یہ بھی ذکر کیا کہ انسانی حقوق سے متعلق جو پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کی گئی وہ آج تک نہیں سنی گئی۔ قاضی فائز عیسیٰ اس وقت کیا کر رہے ہیں؟ اور یہ بھی کہ ان کی دھاندلی کے شواہد واضح ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک شخص اپنی گدی نہ چھوڑنے کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا رہا ہے۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ اتنی بڑی آئین شکنی کے باوجود تحفظ نہ ملنے کی صورت میں ان کی حالت خطرے میں ہے اور اگر ہم سپریم کورٹ اور عدلیہ کے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے تو ہمیں انصاف کیسے ملے گا؟ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے تاکہ ہمیں انصاف مل سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ لوگ جمہوریت عدلیہ اور اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہونے کا حق رکھتے ہیں۔ 28 ستمبر کو پنڈی میں جلسے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ ان کے وکلا این او سی کی کوشش کر رہے ہیں مگر اگر اجازت نہیں ملی تو وہ احتجاج کریں گے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ لاہور کے مینار پاکستان پر 5 اکتوبر کو بھی احتجاج کے لیے این او سی اپلائی کر دیا گیا ہے اور اگر اجازت نہ ملی تو وہ پھر بھی احتجاج کریں گے۔ ہماری آواز دبانے کی کوششیں ناکام ہوں گی، ہم اپنے حقوق کے لیے لڑتے رہیں گے۔

