English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

محکمہ لیبر پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ کو بلیک میل کررہا ہے،سعید علی

القمر

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہر اشیا عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے ایسے میں وہ اسکولز جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم دینے کے لئے خدمات دے رہے ہیں اب انہیں بھی اس نہج پر لانے کے لئے محکمہ لیبر ڈپارٹمنٹ کے افسران میدان میں آگئے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے ڈویژنل صدر سعید محبت علی قریشی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ لیبر ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کی ہدایت پر پرائیویٹ اسکولز کی انتظامیہ کو بلیک میل اور حراساں کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جو کہ کسی بھی طور پر قانونی دائرے کار کے مطابق نہیں ہے محکمے کے انسپکٹر مختلف اسکولز کا دورہ کرکے اسکولز انتظامیہ سے اساتذہ کا ریکارڈ طلب کررہے ہیں اور اساتذہ کو مزدور کے مطابق اجرت کا تقاضا کررہے ہیں اور جب انہیں ریکارڈ نہیں دیا جارہا ہے تو وہ اسکولز انتظامیہ کو غیر قانونی طریقے سے نوٹسز جاری کررہے ہیں۔سعید محبت علی قریشی نے کہا کہ استاد کوئی مزدور نہیں بلکہ تعلیم وتربیت کا محور ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ قوموں اور مہذب معاشروں میں استاد کو ایک خاص مقام اور نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ باشعور معاشرے کا قیام استاد ہی کی مرہون منت ہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے تمام تعلیمی نجی ادارے ڈائریکٹر جنرل، محکمہ تعلیم سندھ، وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم کے ماتحت چل رہے ہیں جن کی رجسٹریشن بھی یہی ادارے دیتے ہیں، اگر انہیں کسی اسکولز کا کوئی ریکارڈ درکار ہوتو وہ متعلقہ اداروں سے رابطہ کرکے طلب کرسکتے ہیں لیکن ایسا بالکل نہیں کیا جارہا۔ ڈویژنل صدر کا کہنا تھا کہ سندھ کے تمام نجی تعلیمی ادارے سندھ پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن ریگولیشن اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2001ء کے تحت چلائے جارہے ہیں آرڈیننس کے قوانین کے مطابق ایک اساتذہ کی کم سے کم تنخواہ اسکول کے چار بچوں کی فیسوں کے برابر ہونی چاہیے جو ہمارے اسکولز باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں لیبر قوانین کو پرائیویٹ اسکولز پر مسلط کرکے نجی تعلیمی ادارے بند کرانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے بچوں کے بہترین مستقبل کو داؤ پر لگ جائے گا کیونکہ سرکاری اسکولز میں ایسی کوئی سہولیات موجود نہیں ہوتی جو بچوں کو تعلیم کے لئے میسر ہونی چاہیے لیکن اس کے باوجود بھی نجی تعلیمی ادارے بچوں کے بہترین مستقبل کے لئے اپنی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اگر اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے تو اس کا سارا بوجھ بچوں کے والدین پر ہوگا کیونکہ جب ایک اسکول کم فیس میں بچوں کو اعلیٰ تعلیم دینے کے لئے کام کررہا ہے تو وہ اپنے اخراجات کو پورا کیسے کرے گا۔ پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے عہدیداران مطالبہ کرتے ہیں کہ محکمہ لیبر ڈپارٹمنٹ کے تعلیم دشمن رویے کو فوری طور پر نوٹس لیا جائے اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو ہم اپنے تمام تعلیمی نجی ادارے احتجاجاً بند کرنے پر مجبور ہونگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے