حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن حیدرآباد کے صدرڈاکٹر آغا تاج محمدنے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیسٹ کے پیپر آئوٹ کرنے اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث مذموم مقاصد رکھنے والے عناصر کو بے نقاب کرکے ٹیسٹ نہ صرف دوبارہ لیا جائے بلکہ اسے مستقل طورپر شفاف بنانے کیلیے ٹھوس اقدامات کیے جائیںجبکہ امتحانات کے طریقہ کار کو ڈیجیٹل سسٹم سے منسلک کیا جائے اور تمام یونیورسٹیوں میں الگ الگ ٹیسٹ منعقد کیے جائیں۔وہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔اس موقع پر ڈاکٹر زمان بلوچ اور ڈاکٹر عبدالحلیم تھیبواور دیگر بھی موجود تھے ۔انہوںنے کہا کہ محکمہ صحت سندھ کروڑوں عوام کو صحت کی بنیادی اور جدید معیاری سہولتوں کی فراہمی کے سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے لیکن ڈاکٹرز، نرسیز ، پیرامیڈیکل اسٹاف سمیت اس کے ہر سطح کے چھوٹے بڑے ملازمین مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ۔ سول اسپتالوں ، تعلقہ اسپتالوں ، رورل ہیلتھ سینٹرز سمیت ہر سطح کے اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں خاطر خواہ وسائل اور طبی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں، عوام کو صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کیسے ممکن ہوگی۔ اس سلسلے میں پی ایم اے حیدرآباد کی طرف محکمہ صحت حکومت سندھ کو ہر سطح پر تجاویز دی جاتی رہی ہیں ، مسائل کی سنگینی کا احساس دلایا جاتا رہا لیکن ان پر کم ہی توجہ دی گئی ہے اور آج بھی محکمہ صحت مسائلستان بنا ہوا ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف و دیگر عملہ نہایت نامساعد حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیںیہاں تک کہ ان کی سیکورٹی کا بھی کوئی مؤثر انتظام نہیں اور پر تشدد واقعات رونما ہونا روز کا معمول بن چکاہے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ محکمہ صحت سندھ اس وقت طبی خدمات بہترطورپر فراہم کرسکتا ہے جب اس میں شامل کیے جانے والے نئے میڈیکل افسران معیاری تعلیم و تربیت سے آراستہ ہوں لیکن میڈیکل میں داخلہ کے نظام میں ہی اتنی خامیاں ہیں کہ میرٹ اب صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے۔ ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں کئی سال سے جعلسازی اور پیپر آئوٹ ہونے کی شکایت سامنے آرہی ہیں جس پر پی ایم اے حیدرآباد کو بھی شدید تشویش ہے اوراس سال تو ٹیسٹ میں بھی بے ضابطگیوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، ہزاروں طلبہ وطالبات متاثر ہوئے ہیں جبکہ متاثرین کا معاملہ عدالتوں اور سڑکوں تک جا پہنچا ہے جس سے داخلوں میں تاخیر اور تعلیمی وقت ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔انہوںنے کہا کہ پی ایم اے حیدرآباد مطالبہ کرتی ہے کہ سینئر ڈاکٹروں کے مسائل بھی حل طلب ہیں ، اسپیشل ڈاکٹروں کے پروموشن فوری کیے جائیں اور خالی آسامیوں پر میڈیکل افسران کی بھرتیاں کی جائیں جبکہ بی ڈی ایس ڈاکٹروں کیلیے نشستوں میں اضافہ کیا جائے اورپی پی ایچ آئی ڈاکٹروں اور کنٹریکٹ ڈاکٹروں کو مستقل کیا جائے اور 19گریڈسے 20گریڈ تک کے ڈاکٹروں کو ڈاکٹرز کا پروفارما پروموشن کیا جائے ، گروپ انشورنس کا دیرینہ مسئلہ حل کیا جائے، ڈاکٹروں کو ہیلتھ کارڈ جاری کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پی ایم اے کا یہ بھی دیرینہ مطالبہ ہے کہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات کے عوام کو میڈیکل کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کیلیے تعلقہ اور رورل ہیلتھ سینٹرز اسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جائے اور انہیں جدید آلات کے معیاری طبی سہولتوں سے آراستہ کیا جائے۔
