
بیروت/غزہ /تل ابیب /صنعا / تہران /لندن / واشنگٹن /اوسلو (اے پی پی /صباح نیوز ) اسرائیل کی لبنان کے دارالحکومت بیروت سمیت مختلف علاقوںپر وحشیانہ فضائی حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران شہید ہونے والوں کی تعداد 105 ہوگئی اس میں حماس کے اہم رہنما بھی شہید ہوئے۔ لبنان میں ہونے والے اسرائیلی فوج کے حملے میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے اہم رہنما فتح شریف ابوالامین شہید ہوگئے۔ حماس کے مطابق اسرائیلی حملے میں فتح شریف سمیت ان کے خاندان کے کئی افراد بھی شہید ہوئے۔ لبنان میں رات گئے ہونے والے اسرائیلی حملوں میں فلسطین کی ایک اور مزاحمتی تنظیم پاپولر فرنٹ کے بھی 3 اہم رہنما بھی مارے گئے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق لبنان کی وادی بقاع اور عین الدلب سمیت دیگر علاقوں میں اسرائیلی بمباری سے 359 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل کے مختلف شہروں پر حملوں میں دوسرا فرانسیسی شہری ہلاک ہوگیا جبکہ اتوار کے روز وزارت صحت نے بعلبک ہرمل شہر میں بھی اسرائیلی فوج نے بمباری کی جس میں 33 لوگ جان کی بازی ہارگئے جبکہ 47 زخمی ہوئے ، یہ واقعہ مشرقی لبنان میں پیش آیا۔دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث غذائی بحران شدت اختیار کر گیا، اسرائیلی حملوں کے بعد لوگ بڑی تعداد میں بے گھر ہو رہے ہیں اور 20 لاکھ سے زاید نقل مکانی کرکے محفوظ علاقوں کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے لبنان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے ہنگامی آپریشن شروع کردیا‘ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے پناہ گاہوں میں بے گھر فیملیز کو راشن کی سپلائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔پیر کو اسرائیل کی غزہ میں وحشیانہ حملوں میں 24 گھنٹے کے دوران مزید 28 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ عرب میڈیا کے مطابق بیت لاہیا میں اسرائیلی جنگی طیارے کی بمباری میں 2 افراد شہید ہوئے، وسطی غزہ میں گھر پر صیہونی فوج کے حملے میں خاندان کے 4 افراد شہید ہوگئے۔ دیر البلاح میں اسرائیلی حملے میں 2 بچوں سمیت فلسطینی صحافی شہید ہوگئے، 7 اکتوبر سے ابتک 130 صحافی اسرائیل بربریت میں کانشانہ بن چکے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق شہدا کی مجموعی تعداد 41 ہزار 615 ہوگئی جبکہ 96 ہزار 359 فلسطینی زخمی ہوچکے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اپنے شہریوں کو فوری لبنان چھوڑنے کی ہدایت کردی۔اپنے ایک بیان میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانوی شہری فوری طور پر لبنان چھوڑ دیں‘ لبنان کی صورتحال خراب ہے‘ شہریوں کو بیروت سے نکل جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے دوست ممالک سے رابطے میں ہیں، خطے میں جنگ بندی سے ہی استحکام آئے گا، فریقین سے کہتے ہیں وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حزب اللہ سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد تنظیم کے عبوری سربراہ اور ڈپٹی چیف نعیم قاسم نے اپنے پہلے خطاب میں مقاصد سے پیچھے نہ ہٹنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ نعیم قاسم نے کہا کہ ہم نے اپنا لیڈر اور بھائی کھویا ہے جو اپنے فائٹرز سے پیار کرتے تھے، ہم دیر کرنے کے بجائے جلد طریقہ کار کے مطابق اپنے نئے سربراہ کا انتخاب کریں گے اور ہم لبنان کی حفاظت اور غزہ کی حمایت کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘ ہم اسرائیل کے اندر 150 کلومیٹر حملے کرتے رہے ہیں۔ عبوری سربراہ نے مزید کہاکہ اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا اور ہم جیتیں گے جس طرح ہم 2006 کی لڑائی میں اسرائیل سے جیتے تھے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ یسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ اسرائیل متعدد شرائط پوری ہونے تک جنگ نہیں روکے گا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ نے جرمنی، برطانیہ، اٹلی، کینیڈا سمیت 25 ممالک کے وزرا خارجہ کو یہ پیغام دیا۔ یسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ جنگ بندی صرف اس صورت ہو گی کہ حزب اللہ اسرائیلی سرحد سے دور جائے، حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے شمال میں دھکیل کر غیر مسلح کیا جائے۔ اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ امریکا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فضائی مدد کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور خطے میں فوجیوں کو تعینات کرنے کی تیاری میں اضافہ کر رہا ہے۔ ایران نے شہید سربراہ حزب اللہ کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور اسے ’صیہونی حکومت کا بھیانک جرم‘ قرار دیا ہے، ایران کا کہنا تھا کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔ اس کشیدگی نے سفارتی محاذ پر ہلچل پیدا کر دی ہے، روسی وزیر اعظم میخائل مشستین تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔ تہران نے اسرائیل کے اقدامات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کے لیے فوج بھیجنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے لبنان یا غزہ میں فوجیں نہیں بھیجے گا۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اضافی یا رضاکار فورس بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے اور لبنان اور فلسطینی علاقوں میں موجود جنگجو جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کو ایرانی عوام، فوجی اہلکاروں اور مزاحمتی قوتوں کے خلاف کیے گئے جرائم کی سزا ضرور دی جائے گی۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امریکا اور یورپی ممالک کے وعدوں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر نے کابینہ کے اجلاس میں شکوہ کیا کہ امریکا اور یورپی ممالک نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی پر راضی ہے اس لیے اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے میں عجلت کا مظاہرہ نہ کریں‘{ امریکا اور یورپی ممالک کے تمام وعدے جھوٹے اور کھوکھلے نکلے جس کے بعد ان پر اعتماد کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔صدر مسعود پیزشکیان نے اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مجرموں کو مزید وقت دینے سے انہیں مزید ظلم کرنے کی ہمت ملے گی۔مسعود پیزشکیان نے اسرائیل کے لبنان اور غزہ میں کارروائیوں کو ’’گھناؤنا جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صیہونی ریاست نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی اصول یا فریم ورک کی پاسداری نہیں کرتی۔ گزشتہ ہفتے لبنان میں حزب اللہ کے زیر استعمال 3 ہزار سے زاید پیجرز میں دھماکوں میں بھارتی نژاد شہری کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی نژاد رینسن جوز نے اسرائیلی سہولت کاری کا کردار ادا کیا جو گرفتاری سے بچنے کے لیے اب امریکا فرار ہوچکا ہے۔ ناروے پولیس نے رائٹرز کو بتایا کہ پیجرز دھماکوں کی تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ پیجرز کی تیاری میں نوٹرا گلوبل نامی کمپنی کا کردار بھی ہے جو ناروے کے ایک بھارتی نژاد شہری کی ہے۔ پولیس کے بقول بھارتی شہری کی کمپنی کی کسی ٹرانزیکشن سے یہ ثابت نہیں ہوا تھا کہ پیجرز کی خرید و فروخت ہوئی ہو تاہم اس کے شواہد ملے کہ پیجرز کی سپلائی میں یہ کمپنی ملوث تھی۔ جس پر ناروے پولیس نے بھارتی شہری کی گرفتاری کے لیے قانونی کارروائی شروع کی لیکن وہ اس سے قبل ہی امریکا فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ اسرائیلی اخبار نے اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کا پتا لگائے جانے کے حوالے سے حیران کن دعویٰ کردیا۔ عرب میڈیا نے اسرائیلی اخبار معاریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک شخص نے حزب اللہ کے شہید سربراہ حسن نصر اللہ کے مقام کی نشاندہی کی تھی۔اسرائیلی اخبار کے مطابق کیمیائی مادے سے آلودہ شخص نے کچھ عرصہ پہلے حسن نصر اللہ سے ہاتھ ملایا تھا‘ اسرائیل نے کیمیائی مادے کی مدد سے حسن نصر اللہ کی نشاندہی کی۔ اسرائیلی فوج کی شمالی قیادت کے اعلیٰ حکام لبنان پر زمینی حملہ کرنے کے لیے شدید دبائوڈال رہے ہیں، جب کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں یرغمالیوں کی بازیابی کے معاملے میں اپنی دلچسپی مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ واقعات نے کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے، اور خطے میں جنگ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے اپنی فوجی پوزیشن میں تبدیلیاں کرتے ہوئے مشترکہ دفاعی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کا موثر جواب دیا جا سکے۔ برطانوی اخبار فنا نشل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ اپنے قائد حسن نصر اللہ کے قتل کا جواب تیار کر رہا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور مشرق وسطیٰ کے حکام کا خیال ہے کہ نصر اللہ کے قتل کے باوجود ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کا امکان کم ہے تاہم کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ادھر اسرائیل کے اندر بھی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے، جہاں اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین نے نیتن یاہو کے گھر کے قریب پہنچ کر یرغمالیوں کی ڈیل کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھی اس انکشاف کی گرد بھی نہیں بیٹھی کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت میں کلیدی کردار اسرائیلی فوج کے ایک ایرانی ایجنٹ نے ادا کیا کہ ایک اور انتہائی حیرت انگیز اور افسوس ناک انکشاف ہوا ہے۔ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ایرانی سیکریٹ سروس نے ایران میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایجنٹس کا قلع قمع کرنے کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیا تھا۔ اس یونٹ کا سربراہی ہی موساد کا ایجنٹ نکلا‘ ایرانی سیکریٹ سروس کا یہ خصوصی یونٹ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دستاویزات کی چوری اور ایران کے کئی جوہری سائنس دانوں کے قتل میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ اپنا کام مکمل کرکے یہ لوگ اسرائیل بھاگ گئے تھے۔ اسرائیل کی جانب سے یمن کے صوبے الحدیدہ پر حملہ، نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ایسے علاقے کو نشانہ بنانا ہے جہاں پہلے ہی عوام جنگ اور مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ یمن کی سیاسی اعلیٰ کونسل نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یمنی عوام کی مشکلات کو مزید بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں کونسل نے کہا کہ بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کا مقصد واضح ہے کہ یمنی عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا جائے تاکہ ان کی تکالیف میں اضافہ ہو۔ وائٹ ہائوس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی جانب سے جاری بیانات کو سن رہا ہے اور یہ دیکھنے کا انتظار کر رہا ہے کہ وہ کیا کرے گا۔ العربیہ اردو کے مطابق جان کربی نے انٹرویو میں کہا کہ ہم لبنان میں اگلے صحیح قدم کے بارے میں اسرائیلیوں سے بات کرتے رہتے ہیں، امریکا حزب اللہ کی قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی کوششوں کو دیکھنے کا انتظار کر رہا ہے۔
