حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے جی سی یونی ورسٹی حیدرآباد میں جامعات کے درمیان مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اردو، سندھی اور انگریزی تینوں زبانوں میں پورے سندھ سے سرکاری اور غیرسرکاری شعبے کی جامعات نے شرکت کی۔ تینوں زبانوں کے الگ الگ مقابلے ہوئے۔ اختتامی تقریب یونی ورسٹی کے تاریخی اسمبلی ہال میں منعقد کی گئی۔ پروفیسر ڈاکٹر طیبہ ظریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈائیلاگ، برداشت اور رواداری صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہیں اور یہ کام نوجوانوں کی سطح پر بہتر انداز میں ہونا چاہیے کیوں کہ نوجوان ہی وہ طبقہ ہے جو حساس بھی ہے اور کچھ کر گزرنے کے لیے پرجوش بھی ہے۔ جامعات انھی نوجوانوں کے لیے مثبت اور تعمیری سوچ کو پروان چڑھانے کا پلیٹ فارم ہے۔ آج سندھ ایچ ای سی کے تعاون سے جی سی یونیورسٹی حیدرآباد میں کل سندھ بین الجامعاتی مباحثہ اسی سلسلے کی کوشش ہے جس پر ہم سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پورے سندھ کی جامعات کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے نوجوانوں کو ڈائیلاگ کا موقع فراہم کیا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طیبہ ظریف نے مزید کہاکہ پانچ اکتوبر اساتذہ کا دن ہے درحقیقت ہر دن استاد کا دن ہوتا ہے ہمیں اپنے اساتذہ بالخصوص ان کے دیے ہوئے سبق کو نہیں بھولنا چاہیے ہم آج جو کچھ بھی ہیں انھیں محترم اساتذہ کی بدولت ہیں۔ آئیے ہم انھیں کھڑے ہوکر خراج تحسین پیش کریں۔اردو مباحثے میں لمس جام شورو کے محمد سفیان، جامعہ مہران جام شورو کے وقار احمد سندھ ایگری کلچر یونی ورسٹی ٹنڈوجام کی آمنہ بلوچ نے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن لی۔ سندھی میں جی سی یونی ورسٹی حیدرآباد کی طاہرہ ذوالفقار، جامعہ سندھ جام شورو کے فہد مہدی اور نے جامعہ مہران کے عبد الغفار نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن لی۔ انگریزی میں جی سی یونی ورسٹی حیدرآباد کی شاہ نور راجپوت، اسرا یونی ورسٹی حیدرآباد کے مصباح عمران اور ڈاؤ یونیورسٹی کی فضا نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن لی۔ تمام پوزیشن ہولڈرز کو شیلڈز بالترتیب پندرہ ہزار، دس ہزار اور پانچ ہزار روپے بطور انعام دیے گئے۔دیگر شرکائے مقابلہ کو اسناد دی گئیں۔ منصفین کو اجرک اور شیلڈ دی گئیں۔جی سی یونی ورسٹی حیدرآباد کی میزبانی میں منعقدہ اس مقابلے میں اروڑ یونی ورسٹی سکھر، بیگم نصرت بھٹو وومین یونی ورسٹی سکھر، آئی بی اے سکھر، بے نظیر بھٹو میڈیکل یونی ورسٹی لاڑکانہ، پمز بے نظیر آباد، مہران یونیورسٹی جام شورو، لمس جام شورو، شہید اللہ بخش سومرو یونی ورسٹی جام شورو، یونی ورسٹی آف ماڈرن سائنسز ٹنڈو محمد خان، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور، سندھ ایگری کلچر یونی ورسٹی ٹنڈو جام، گرین وچ یونی ورسٹی کراچی، ڈاؤ یونیورسٹی کراچی کے شریک تھے۔
